چیف جسٹس نوٹس لیں: مظاہرین

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد کی سول سوسائٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چودہری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں۔
جمعرات کے روز سول سوسائٹی اور ملازمت پیشہ افراد کی تنظیم پاکستان پروفیشنل فورم نے اسلام آباد کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے حکومت مخالف کتبے اٹھا رکھے تھے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی۔
مظاہرین نے بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مالاکنڈ آپریشن سے متاثرہ افراد کی مالی مدد کی مد میں ملازمت پیشہ افراد پر لگائے گئے ٹیکس پر حکومت کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے کہا کہ حکومت انتخابات میں روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی تھی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ عوام کے پاس نہ روٹی نہ بجلی ، مکان اور نہ ہی امن و امان ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کے کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت پیشہ افراد کی تنظیم پاکستان پروفیشنل فورم کے صدر آصف لقمان قاضی نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور دوسری طرف آئی ڈی پیز کے نام پر ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکس لگایا ہے جس سے ان لوگوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملازمت پیشہ افراد پہلے سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں جبکہ آئے دن تیل ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کے نام پر نیا ٹیکس لگا رہی ہے جو ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ٹیکس واپس لینے کا باقاعدہ اعلان نہیں کر دیتی ہے۔


















