شام: غیرت کےنام پر قتل، سزا سخت

شام نے عورتوں کو غیرت کے نام قتل کرنے سے متعلق قانون کو مزید سخت بنا دیا ہے اور اس جرم کا مرتکب شخص کو کم از کم دو سال سزا ہو گی۔
شام نے اس قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت غیرت کےنام پر قتل کرنے والے قانون میں مجرم کو کم از کم ایک سال سزا تھی جو اب بڑھا کر دو سال کر دی گئی ہے۔
شام میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کافی عرصے سے آرٹیکل 548 کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ان کا مؤقف تھا کہ اس شق کے تحت غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل کرنے والے مردوں کو کم سزا ملتی ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں ہر سال تقریباً دو سو عورتوں کا غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔
وزیر انصاف احمد یونس کا کہنا ہے کہ قانون میں یہ تبدیلی صدر بشر الاسد نے ایک فیصلے میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں غیرت کے نام پر بیویوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے۔
نئے قانون کی مد میں اشتعال میں قتل کرنے والے شخص کو بھی کم ازکم دو سال سزا بھگتنی ہو گی۔


















