پاکستان میں تعلیم ایک اہم ’میدانِ جنگ‘

- مصنف, اورلا گورن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد
- وقت اشاعت
شدت پسندی کے خلاف جنگ میں تعلیم ایک اہم ’میدانِ جنگ‘ ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے یہ سبق ابھی تک نہیں پڑھا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی شعبے پر کئی دہائیوں سے توجہ نہیں دی گئی اور نو برس سے کم عمر کی ایک تہائی تعداد سکولوں میں نہیں جاتی۔
اس خلاء کو پاکستان میں مدارس پُر کرتے ہیں۔ میں جب پاکستان کے بڑے مدارس میں شمار ہونے والا مدرسہ دارالعلوم حقانیہ پہنچی تو میری خاطر تواضع کے لیے مشروبات اور چائے پیش کی گئی۔ اور چائے اور بسکٹس کے بعد دوپہر کے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا۔
پاکستان میں مہمان نوازی پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ میں نے جب پاکستان کے قبائلی علاقے کا دورہ کیا تو میرا پہلا سبق اس حوالے سے ایک فوجی افسر نے یہ کہتے ہوئے دیا ’ کچھ علاقوں میں آپ پر لوگ بندوقیں تان لیں گے اگر آپ نے ان کے یہاں شربت یا چائے سے انکار کیا‘۔ ظاہر ہے یہ سبق چائے اور بسکٹس کے ساتھ دیا گیا تھا۔
لیکن مدرسہ حقانیہ میں میری آؤ بھگت ایک حد تک ہوئی۔ ایک مغربی عورت کو جس نے سر پر حجاب بھی نہیں لیا ہوا تھا اور نہ ہی روایتی لباس پہن رکھا تھا مدرسے کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی میرے ساتھ میرے مغربی ساتھیوں کو۔
اس لیے ہمارے پاکستانی کیمرہ مین نے ہمارے بغیر ہی کمرۂ جماعت کی ویڈیو بنائی۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہ دینا ہماری ہی حفاظت کے لیے ہے کیونکہ صورتحال اتنی کشیدہ ہے کہ کہیں مدرسے میں طلبہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔
اس مدرسے میں تین ہزار طلبہ ہیں۔ اسی مدرسے کے ایک بہت مشہور سابق طالب علم افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر ہیں اور اس مدرسے کو ان پر اتنا فخر ہے کہ ان کو اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔
میں یہاں مدرسے کی اصلاحات کے بارے میں مزید جاننے آئی تھی۔ مدرسہ اصلاحات پاکستان میں کئی سالوں سے زیر بحث ہیں لیکن اس مدرسے کے مہتمم مولانا سمیع الحق کا اصرار تھا کہ صدر آصف علی زرداری جو بھی کہیں ان کے مدرسے میں یہ اصلاحات نہیں ہونے دی جائیں گے۔ ’یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوا۔ کئی رہنما یہ خواب اپنے ساتھ قبر میں لے گئے اور زرداری بھی یہی کریں گے‘۔
انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ مدرسہ طلبہ کو جہاد کے لیے تیار کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ طلبہ کا فیصلہ ہے کہ وہ مدرسے سے پڑھ کر نکلنے کے بعد کیا کرنا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف پاکستان کی حکومت ان مدارس کو کنٹرول کرنا تو دور کی بات ان کی تعداد کے بارے میں بھی صحیح طور پر واقف نہیں ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں تیرہ ہزار مدرسے تھے لیکن دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے دگنی ہے۔ اس کے علاوہ کئی والدین اپنے بچوں کو مدرسوں میں تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں کیونکہ وہاں پر مفت کی تعلیم اور رہائش شامل ہے۔
لیکن سب سے بڑا خطرہ پاکستان میں سکولوں میں تعلیم کا معیار ہے۔

اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں میں چند ایسے بچوں سے ملی جو سوات کے شورش زدہ علاقے سے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کا کونسا پسندیدہ گانا یا نظم ہے جو وہ سب مل کر سنائیں۔ لیکن سب خاموش ہو گئے۔ میں ان کی خاموشی کو شرمیلا پن سمجھی لیکن ان میں سے تین بچوں کے انکل نے غصے میں اس کی وجہ اور بتائی۔ ’یہ کئی سالوں سے سکول جا رہے ہیں لیکن انہوں نے کچھ نہیں سیکھا۔‘
پاکستان جی ڈی پی کا صرف اڑھائی فیصد حصہ تعلیم پر صرف کرتا ہے جبکہ یہ وہ ملک ہے جہاں اس کی بالغ آبادی میں سے آدھی آبادی ان پڑھ ہے۔
پنجاب میں واقع ایک سرکاری سکول میں ہمیں تفریق کا سبق ملا۔ اس سکول میں اسمبلی کی بعد بچے صاف ستھری اور آدھی خالی کلاسوں میں گئے۔ اس سکول میں ایک سو اسی طلبہ ہوتے تھے لیکن اب ان میں سے آدھے سے زائد بچے سکول چھوڑ چکے ہیں کیونکہ سکول میں اساتذہ کی کمی ہے۔ سکول کی ہیڈ ٹیچر رخسانہ کوثر کا کہنا تھا ’یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ہمارے طلبہ بہت ذہین ہیں لیکن ہمارے پاس کمپیوٹر اور سائنس لیبارٹری نہیں ہے۔اگر ہمیں مزید اور بہتر اساتذہ مل جائیں تو یہ خالی بینچیں بھی بھر جائیں گی۔‘
اس سکول کے طلبہ پڑھنا چاہتے تھے جیسے کہ نو سالہ محمد۔ ’میں پڑھنا چاہتا ہوں اور پڑھ لکھ کر میں فوج میں بھرتی ہوں گا اور ان طالبان کے خلاف لڑوں گا جو ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘۔ اس سکول کے ساتھ ہی واقع ایک لڑکوں کا سرکاری سکول خالی تھا جس میں ایک استاد تین بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ اس سکول کا مستقل استاد پچھلے سال دسمبر میں چلا گیا تھا۔ ایسے سکولوں کو پاکستان کے ’گھوسٹ سکول‘ کہا جاتا ہے۔






















