’یہ عام دہشتگردوں کے بس کی بات نہیں‘

راولپنڈی میں سرکاری بس پر حملہ
،تصویر کا کیپشنحملے کا نشانہ بننے والی بس ہیوی میکنیکل کمپلیکس نمبر تین سے منسلک تھی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

راولپنڈی میں انتہائی پیچیدہ سکیورٹی نظام کے تحت اہم اور خفیہ منصوبوں پر کام کرنے والے سرکاری اہلکاروں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والی بس پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ حملہ آور خفیہ اداروں کے تیار کردہ حفاظتی نظام سے خطرناک حد تک واقفیت رکھتے ہیں۔

ٹیکسلا میں قائم پاکستانی فوج کے سازوسامان کی تیاری کے صنعتی ادارے ہیوی میکینکل کمپلیکس سے تعلق رکھنے والی بس جمعرات کو موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور کا نشانہ بنی تھی جس میں ترمیم شدہ اعلان کے مطابق ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

اس سے پہلے راولپنڈی میں ہی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی بس پر اسی نوعیت کا حملہ ہوا تھا۔ جمعرات کے روز نشانہ بننے والی ہیوی میکنیکل کمپلیکس کی بس کی طرح آئی ایس آئی کی اس بس پر بھی کسی قسم کا سرکاری نشان یا نام تحریر نہیں تھا۔ لیکن آئی ایس آئی کی بس سمیت اب تک دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مختلف سرکاری گاڑیوں اور عمارتوں کے مقابلے میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس یہ بس ایک پیچیدہ سیکیورٹی نظام کا حصہ تھی جس پر حملے نے یہ نظام وضع کرنے والے اداروں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

قابل اعتماد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مذکورہ بس ہیوی میکنیکل کمپلیکس نمبر تین سے منسلک تھی۔ ایچ ایم سی کا یہ حصہ اور اس سے متعلق سٹاف بظاہر کمپلیکس ہی کے ملازمین تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے زیر استعمال تمام وسائل کمپلیکس ہی کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں لیکن اصل میں ایچ ایم سی تھری کے ملازمین ملک میں مختلف خفیہ منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔

دہشت گردی کا نشانہ بننے والی بدقسمت بس میں بھی جو افراد سوار تھے وہ ملک کے دفاعی نظام سے متعلق ایک خفیہ پروگرام میں کام کرتے تھے۔ ان میں سے بیشتر کمپیوٹر کے شعبے کے ملازمین بتائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کے پولیس سربراہ نے دھماکے کے فوراً بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ مذکورہ بس میزائل پروگرام سے متعلق ادارے کے آر ایل سے تعلق رکھتی تھی۔گو کہ تحقیقاتی ادارے اس امکان کو رد نہیں کر رہے کہ حملہ آور خود بھی بس سواروں کی اصل شناخت سے لاعلم تھا، تاہم ابتدائی تحقیق اسی بنیاد پر کی جا رہی ہے کہ کہیں مختلف’ کورز‘ کے تحت کام کرنے والے ان ملازمین کی اصل شناخت شدت پسند گروہوں پر افشا تو نہیں ہو گئی۔

’انڈر کور‘ کام کرنے والے افراد کے حفاظتی نظام سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام تک رسائی حاصل کرنا عام شدت پسندوں کے بس کا کام نہیں۔ ان ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام سے واقفیت حاصل کرنا اور پھر اس میں اس طرح سے سرائیت کرنا کہ کامیاب دہشت گرد حملہ کر لیا جائے اسی نظام سے منسلک افراد کی مدد اور راہنمائی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔