’صرف بیت اللہ کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی‘

پاکستانی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی کا اصل ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کےسربراہ بیت اللہ محسود اور ان کا نیٹ ورک ہے۔
اس بات کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے مختصر گفتگومیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی بھی کسی بھی شدت پسند سے کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے شدت پسندوں سے نہیں کیے گئے تھے لہذا طالبان کی جانب سے ان معاہدوں کے خاتمے کا کوئی مطلب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ یہ جو کارروائی ہو رہی ہے وہ ٹارگٹڈ ہے بیت اللہ محسود اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف۔ یہ کسی قوم یا قبیلے کے خلاف نہیں کی جا رہی ہے۔ یہ صرف ٹارگٹڈ کارروائی ہے بیت اللہ محسود اور اس کے حواریوں کے خلاف‘۔
سوات آپریشن کے برعکس فی الحال جنوبی وزیرستان میں محض فضائی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ کارروائی کب مکمل ہوگی اس بارے میں حکومت کوئی ڈیڈلائن نہیں دے پائی ہے۔
دوسری جانب طالبان کمانڈر ملا نذیر نے ٹیلی فون پر بی بی سی کے دلاور خان وزیر کو بتایا ہے کہ حکومت کے ساتھ دوبارہ کوئی امن معاہدہ نہ تو ہوا ہے اور نہ ہی پُرانے معاہدے کی تجدید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے غیر مؤثر ہوچکا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نےمزید کہا کہ بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر اور ان کے درمیان ایک شوریٰ اتحاد موجود ہے اور موجودہ حالات میں اس پر کسی قسم کا فرق نہیں پڑا ہے۔
دریں اثناء حکومت کی جانب سے وزیرستان میں کارروائی کے آغاز سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ نقل مکانی کر کے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آ بسے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ راستے بند ہونے کے باوجود عام شہریوں کے وہاں سے نکلنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ تاہم ان متاثرین نے امداد نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کمیٹی متاثرین جنوبی وزیرستان کے صدر عبدالرحیم خان محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا یہ لوگ بھی مالاکنڈ کے اکثر متاثرین کی طرح اپنے جاننے والوں کے پاس گھروں میں رہ رہے ہیں لیکن ان کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی ہے اور ’بجلی اور پانی کی کمی نے ان متاثرین کی زندگی اور بھی یہاں مشکل بنا دی ہے‘۔
کارروائی کے آغاز سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ حکومت نقل مکانی کرنے والوں کے لیے عارضی خیمہ بستیاں قائم کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ عبدالرحیم محسود کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کیمپوں میں جانے والے بیمار ہو جاتے ہیں اور ویسے حکومت نے ان کے لیے کوئی کیمپ بنایا بھی نہیں ہے۔






















