لکی مروت میں سرچ آپریشن،گھر مسمار

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سکیورٹی فورسز اور پولیس نے صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے مطابق سوات میں آپریشن کے دوران اسلحے کی برآمدگی کے علاوہ تین سرنگوں کا پتہ بھی چلایا گیا ہے۔
لکی مروت پولیس کے ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن سے پہلے شہر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا اور مساجد میں اعلان کیے گئے کہ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
لکی مروت سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہشاہ حسن خیل کے علاقے میں سنیچر کی صبحوقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران شاہ حسن خیل کےعلاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں موجود چار مکانات مسمار کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ مکانمولانا اشرف علی، تاج علی، محمد گل اور طاہر نامی افراد کے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد پر شدت پسندوں کی مدد کرنے کا شبہ تھا۔ کارروائی کے دورانعمران نامی ایک شخص کوگرفتار بھی کیا گیا ہے تاہم مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہوئی اور نہ ہی مشتبہ مقامات سے کوئی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس نے شدت پسندی کے حوالے سے لکی مروت میں سرچ آپریشن کیا ہے۔لکی مروت ڈیرہ اسماعیل خان سے نوے کلومیٹر دور بنوں روڈ پر واقع ہے۔
ادھر فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سکیورٹی فورسز نے سات شدت پسند گرفتار کیے ہیں جبکہ شموزئی کے مقام پر شدت پسندوں کے زیر استعمال پچاس سے ساٹھ میٹر لمبی تین سرنگوں اور مالم جبہ کی چیئر لفٹس کے ساتھ الماس رج میں ایک ایسی دس میٹر طویل سرنگ کا پتہ چلایا گیا ہے جہاں خوراک کا سامان بھی موجود تھا۔
بیان کے مطابقسکیورٹی فورسز نے منگاتن وادی میں سرچ آپریشن کے دوران چھ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شموزئی، سرگلئی اور پرندہ بابا زیارت میں سرچ آپریشن کے دورانپندرہ بندوقیں ، تین پستول اور دیسی ساختہ بموں کے علاوہ مختلف ممالک کی کرنسی اور دوربینیں وغیرہ برآمد ہوئی ہیں۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈنگرام اور کوکارائی میں شدت پسندوں کی تلاشی کے آپریشن کے دورانتین گاڑیاں اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے جبکہ ایک مقامی شدت پسند کمانڈر شیر عالم نے اپنے آپ کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ شیر عالم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ خوش میر کے نائب سمجھے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















