قومی لشکر اور عسکریت پسندوں میں جھڑپیں

فائل فوٹو(جنگجو)
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں گیارہ قومی لشکر کے رضاکار اور تین عسکریت پسند شامل ہیں۔
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں قومی لشکر اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں مقامی لوگوں کے مطابق چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ قومی لشکر کے رضا کار اور تین عسکریت پسند شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کو تحصیل انبار کے علاقے پم پوخہ میں قومی لشکر اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان اس وقت جھڑپیں شروع ہوئی جب قومی لشکر کے رضاکار عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے جمع ہورہے تھے۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپوں میں اب تک چودہ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ قومی لشکر کے رضاکار اور تین عسکریت پسند شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تحصیل انبار میں ایک ہفتہ پہلے عسکریت پسندوں کے خلاف تمام مقامی قبیلوں پر مشتمل ایک قومی لشکر بنایا تھا جس میں تین سو رضا کار شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق قومی لشکر نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عسکریت پسندوں کے چالیس مکانات تباہ کر دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق قومی لشکر کے سولہ رضاکار لاپتہ بھی ہوگئے ہیں۔ لیکن حکام نے لاپتہ رضاکاروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کی صُبح سے قومی لشکر اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہے۔ جس میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں قومی لشکر کا نقصان زیادہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس پہلے دیر اور باجوڑ میں قومی لشکر کے رضاکار مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے اور کئی مقامات پر عسکریت پسندوں اور قومی لشکر کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن ابھی تک کسی بھی علاقے میں لشکر کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔