وزیرستان: ہوائی حملے میں تین ہلاک

مقامی طالبان_ فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمقامی طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے ہوتے رہیں گے تب تک سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رہیں گے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے جیٹ طیاروں سے دو مقامات پر بمباری کی ہے جس میں تین افراد ہلاک جب کہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام نے مقامی طالبان کے دو ٹھکانے کو تباہ کرنے دعوی کیا ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کے مطابق ایک اسلامی مدرسے کو نشانہ بنایا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو شمالی وزیرستان کے دور دارز علاقے افغان سرحد کے قریب مقامی طالبان کے دو ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بمباری سے دونوں ٹھکانے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ جس میں کئی طالبان کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے قریب دیگان اور محمد خیل کے علاقوں میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے جس میں محمد خیل کے علاقے لنڈے محمد خیل میں مولانا نیک بہادر کے ایک اسلامی مدرسے ایک مسجد اور ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں محمد خیل کے شدید خان کا ایک چھ سالہ بیٹا شامل ہے۔

میرانشاہ سے نور شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ زخمیوں کو میرانشاہ سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جن میں دس سالہ عظمت خان اور بارہ سالہ خالد خان کی حالت خطرناک بتائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کے قریب ایک بم ایک مکان پر گرا ہے جس سے تین خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ چند دن پہلے اس علاقے میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں چھبیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد حافظ گل بہادر نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

حافظ گل بہادر کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے ہوتے رہیں گے تب تک سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رہیں گے۔