بچی کا قتل: ملزمان کا سات دن کا ریمانڈ

ثنا کے ورثاء کو شبہ ہے کہ بچی سے جنسی زیادتی بھی کی گئی
،تصویر کا کیپشنثنا کے ورثاء کو شبہ ہے کہ بچی سے جنسی زیادتی بھی کی گئی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی میں پولیس نے تین سالہ بچی کو اغوا کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار دو ٹریفک اہلکاروں کا تیرہ جولائی تک ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ ثنا کے ورثاء اور اہل محلہ نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس دوران خون کا بدلہ خون کے نعرے بھی لگائے گئے۔

زمان ٹاؤن پولیس نے پیر کی صبح ہیڈ کانسٹبل بشیر ٹگڑ اور کانسٹیبل نور محمد شر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ملک اختر کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔

دوسری جانب ملزمان بشیر ٹگڑ اور نور محمد شر کا کہنا ہے کہ جب وہ ڈیوٹی سے واپس آئے تو بچی کی لاش ان کی پانی کی ٹنکی سے بر آمد ہوئی تھی اور خوف کی وجہ سے انہوں نے اس کی لاش پھینک دی تھی۔

یاد رہے کہ نورانی بستی کورنگی میں ایک تین سالہ بچی ثنا جمعہ کے روز لاپتہ ہوگئی تھی جس کی اطلاع زمان ٹاؤن پولیس کو دی گئی۔

بچی ثنا کے والد قاسم کا کہنا ہے کہ ثنا کی ایک سہیلی نغمہ نے انہیں بتایا تھا کہ اس نے ایک شخص کو دیکھا تھا جو ثنا کو پانچ روپے دے رہا تھا۔ رات کو جب پولیس اہلکار بشیر اپنے گھر واپس آئے تو اس بچی نے شناخت کی۔ بشیر اپنا سامان لے کر جا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق لوگوں نے دونوں اہلکاروں بشیر ٹگڑ اور نور محمد شر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کمرے میں بند کردیا۔ بعد میں پولیس نے ملزمان کی نشاندھی پر تین سالہ بچی کی مسخ شدہ لاش گورا قبرستان کے قریب واقعے ایک گٹر سے برآمد کی۔

نورانی بستی کے رہائشی بعد میں ثنا کے والدین کے ساتھ پریس کلب کے باہر پہنچے جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، بچی کے ورثاء اور مظاہرے کے شرکاء تمام ہی کا یہ ہی مطالبہ تھا کہ ملزمان کو فوری سزائے موت سنائی جائے۔ بنگالی کمیونٹی کے ان لوگوں میں کچھ باریش لوگ بھی شامل تھے جو قرآن اور حدیث کے حوالے دے کر ملزمان کو موت کی سزا دینے کے لئے دلائل دے رہے تھے۔

ایسے لوگوں پر مقدمے نہیں بلکہ ان کو ویسے ہی گولی ماردینی چاہیئے: شرمیلا فاروقی
،تصویر کا کیپشنایسے لوگوں پر مقدمے نہیں بلکہ ان کو ویسے ہی گولی ماردینی چاہیئے: شرمیلا فاروقی

بچی کے ورثاء کو شبہ ہے کہ بچی سے جنسی زیادتی بھی کی گئی مگر پولیس کو پوسٹ مارٹ رپورٹ کا انتظار ہے۔ پولیس نے ہیڈ کانسٹیبل بشیر ٹگڑ اور کانسٹیبل نور محمد شر پر اغوا اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایس پی کورنگی پرویز عمرانی کا کہنا ہے کہ ملزمان کے فنگر پرنٹس، میڈیکل رپورٹ اور ڈی این اے کرایا جائے گا جس کا بچی کا پوسٹ مارٹم رپورٹ سے موازنہ کیا جائے گا جس سے پتہ چل جائے گا کہ گرفتار ملزمان ملوث ہیں یا نہیں۔

ثنا کی بزرگ نانی رشیدہ کا کہنا تھا کہ ملزم کو رہا نہیں ہونا چاہیئے اور انہیں معصوم سے ہونے والے ظلم کا بدلہ چاہیئے ۔

ثنا کی والدہ صدمے کی وجہ سے بار بار بیہوش ہو رہی تھیں اور ان کے شوہر قاسم انہیں سہارا دیتے۔ والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی جمعہ کو دوپہر کا کھانا کھا کر نکلی تھی اور شام تک نہیں آئی ۔انہوں نے ایدھی ویلفیئر والوں کو بھی اطلاع دی تھی۔ ملزم ان کے پڑوس میں رہتے تھے اور دس بارہ دن قبل کرائے دار بن کر آئے تھے اور اتوار کو سامان لیکر جا رہے تھے تو انہیں پکڑ لیا۔

’انہوں نے میری گود خالی کردی۔ دونوں نے اس سے زنا کیا اور اس کے جسم پر تیزاب ڈالا اس سے تو معصوم کو گولی ماردیتے۔ ہماری تو ان سے کوئی دشمنی بھی نہیں تھی انہیں چھوڑ دیا تو کل کسی اور ماں کی گود لٹ جائے۔‘

لاش مسخ شدہ ہونے کی وجہ سے ثنا کی ماں بیٹی کا آخری بار چہرا بھی نہ دیکھ سکیں۔ وہ کہتی رہیں کہ وہ اب کس کے ساتھ رات کو سوئیں گی ثنا سات بچوں میں ان کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔

ہاشم بنگالی لانچ پر مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کی فوری موت چاہتے ہیں۔

اس منظر کے دوران سندھ کے وزیر اعلٰی کی مشیر شرمیلا فاروقی پہنچ گئیں جنہیں ثنا کی والدہ نے پوری داستان سنائی اور کہا کہ ملزمان لاکر اس کے حوالے کیے جائیں وہ انہیں جلائیں گی ورنہ انہیں شوہر کے ساتھ گولی مار دی جائے۔

شرمیلا فاورقی نے کہا کہ ایسے لوگوں پر نہ مقدمے ہونے چاہیئے نہ تفتیش ہونی چاہیئے بلکہ ان کو ویسے ہی گولی ماردینی چاہیئے جو بچیوں کے ساتھ ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو تحفظ دینا چاہیئے اگر وہ ان واقعات میں ملوث ہوں تو یہ بڑی شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو ان کی ضمانتیں نہیں لینی چاہیئے بلکہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔