منگلا: بجلی کی عدم فراہمی رپورٹ طلب

صدر آصف زرداری
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی دوسری سیاسی قوتوں کی مشاورت سے آئین سے تمام غیر جمہوری شقیں ختم کر دے گی
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صدر آصف علی زرداری نے منگلا بجلی گھر سے بجلی کی مسلسل عدم فراہمی پر چئرمین واپڈا سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

صدر مملکت کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے پیر کو بتایا کہ منگلا پاور ہاوس سے بجلی کی مسلسل عدم ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس بحالی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صدر نے صورتحال کی بہتری کے لیے فوری ہدایات جاری کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے ہدایت کی کہ رپورٹ میں بجلی کے تعطل کی وجوہات اور اس کے ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ صورتحال کے تدارک اور مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لیے کیےح جانے والے اقدامات کی بھی تفصیل طلب کی ہے۔

ہدایت میں یہ بھی کہا گیا کہ رپورٹ میں نظام کی مکمل بحالی کا ٹائم فریم بھی دیا جائے۔

ادھر صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسری سیاسی قوتوں کی مشاورت سے آئین سے تمام غیر جمہوری شقیں ختم کر دے گی اور اس استبدادی نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا جس سے ملک میں دہشت گردی انتہا پسندی اور آمریت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991 کے معاہدے کے مطابق حل کر لیا جائے گا۔

دونوں رہنما پیر کو یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی جب کہ شریک چئرمین اور صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئیں۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورہ سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے خدمات دینے والوں کے لیے ایک نیا سول ایوارڈ 'ہلال ایثار' دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنصوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991 کے معاہدے کے مطابق حل کر لیا جائے گا۔

یہ ایوارڈ مختلف شہروں کے ان رہائشیوں کو دیا جائے گا جو سوات اور دیگر متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو اپنے مکانوں اور کیمپوں میں جگہ دینے اور ان کی مدد کرنے کے حوالہ سے خدمات انجام دیں گے۔

صدر نے قومی پرچم کے ساتھ 'ہلال ایثار' پر مبنی یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔ پاکستان کے قومی پرچم کی شکل میں صدر مملکت کی طرف سے دیا جانے والا یہ اعزاز یک بار ایوارڈ ہو گا اور مرکزی ضلعی حکومت کی عمارت پر صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ اور کسی وفاقی یا صوبائی وزیر کی طرف سے پرچم کشائی کر کے آویزاں کیا جائے گا۔

ادھر صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کو شکست دے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتہا پسندانہ ذہنیت کے خلاف اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو ممتاز برطانوی اخبار 'ڈیلی ٹیلی گراف' میں اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی کوششوں کے حوالے سے اخبار نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ صدر آصف علی زرداری کے لیے فیصلہ کن مسئلہ بن گئی ہے۔