سندھ کے اعتراضات نامناسب ہیں: نیپرا

کنال فاخئل فوٹو
،تصویر کا کیپشنپنجاب حکومت نے چشمہ - جہلم لنک کنال کے آخری سرے پر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ڈیزائن کیا ہے
    • مصنف, امداد علی سومرو
    • عہدہ, لاہور
  • وقت اشاعت

دریائے سندھ کے پانی پر بجلی بنانے کے ایک نئے منصوبے پر سندھ کے اعتراضات کو بجلی اور توانائی کی نگرانی کے قومی ادارے نیپرا نے نامناسب قرار دیا ہے۔

پنجاب نے دریائے سندھ سے نکلنے والی نہر چشمہ - جہلم لنک کنال پر چوالیس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک نجی کمپنی کو ٹھیکا دیا ہے۔ اس منصوبے کو گیارہ ہزار دو سو کیوسک پانی کے بہاؤ پر چلایا جا سکتا ہے۔ چھتیس ماہ میں مکمل ہونے والے اس منصوبے پر چھ ہزار چھ سو ستاون ملین روپے لاگت آئے گی۔

پنجاب حکومت نے چشمہ - جہلم لنک کنال کے آخری سرے پر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ڈیزائن کر کے حسیب خان اینڈ کو نامی نجی کمپنی کو اس کا ٹھیکہ دے رکھا ہے۔ اس نجی کمپنی نے بجلی کا فی یونٹ نرخ طے کرنے کے لیے نیپرا سے رجوع کیا ہے۔ نیپرا نے اس منصوبے کے متعلق اخبارات میں اشتہارات شائع کر کے متعلقہ فریقین سے اعتراضات طلب کیے۔ جس پر سندھ حکومت نے اس منصوبے پر اعتراض دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ' کیونکہ چشمہ - جہلم لنک کنال ایک ایسی نہر ہے جس کے ذریعے صرف سیلاب کے دنوں میں دریائے سندھ کا پانی دریائے جہلم میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ایسی کسی نہر پر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا'۔

سندھ نے اپنے اعتراض میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ بنایا گیا تو پھر اس سے بجلی پیدا کرنے کے لیے پنجاب دریاؤں میں پانی کی کمی کے دوران سندھ کے حصے کا پانی لے گا۔

واضح رہے کہ سندھ کے اعتراضات کی وجہ سے کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر کئی دہایوں سے عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ سندھ دریائے سندھ سے دریائے جہلم میں پانی منتقل کرنے والی چشمہ - جہلم لنک کنال پر بھی اعتراض کرتا رہا ہے۔ جب کہ چشمہ - جہلم لنک کنال سے نکالے جانے والی گریٹرتھل کنال پر بھی سندھ احتجاج کرتا رہا ہے۔ مشرف حکومت میں شروع ہونے والا گریٹر تھل کنال کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

پنجاب نے بجلی بنانے کے اس نئے منصوبے پر سندھ کے خدشات کو بلا جواز قرار دیا ہے۔ پنجاب پاور ڈولپمنٹ بورڈ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاقت علی اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کو پنجاب پانی کے اپنے حصے سے چلائے گا اور نجی پاور کمپنی سے معاہدے میں یہ شامل ہے کہ وہ نہر کو اتنے ہی پانی پر چلائے گی جتنا پانی آب پاشی مقاصد کے لیے نہر میں چھوڑا جائے گا۔

ان کے مطابق نجی کمپنی کا یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ بجلی گھر چلانے کے لیے نہر میں پانی کا بہاؤ کم یا زیادہ کرنے کا تقاضا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی کمپنی کو یہ اختیار بھی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے منصوبے کے لیے نہر کے بنیادی ڈھانچے میں بھی تبدیلی کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی وفاقی حکومت کی اس پالیسی کے تحت بنایا گیا ہے، جس کے تحت صوبے پچاس میگاواٹ سے کم بجلی پیدا کرنے کے منصوبے نجی کمپنیوں کے ذریعے بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی نجی کمپنی خود فروخت کرے گی اور وہ پانی کے استعمال کے چارجز کے طور پر پندرہ پیسے فی یونٹ پنجاب حکومت کو دینے کی پابند ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ نیپرا نے انہیں ابھی سندھ کے اعتراضات پر کوئی نوٹس نہیں بھیجے۔

نیپرا کے ترجمان ارشد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ سندھ کے اعتراضات مناسب نہیں لگتے تاہم اعتراض دائر کرنا سندھ کا حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعتراضات دائر کرنے کی آخری تاریخ یعنی پانچ جولائی کے بعد فریقین کو طلب کر کے سندھ کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا کہ وہ قابل سماعت ہیں کہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فریق کے اعتراضات قابل سماعت ہوئے تو پھر ان کی باضابطہ سماعت ہوگی اور اگر اعتراضات مسترد ہوتے ہیں تو پھر نیپرا اس منصوبے سے بننے والی بجلی کے نرخ پر کمپنی سے معاہدہ کر کے اسے بجلی گھر بنانے کی اجازت دے گی۔

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنمشرف حکومت میں شروع ہونے والا گریٹر تھل کنال کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

دوسری جانب دریاؤں کا پانی صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے والے ادارے ارسا سے ابھی تک اس منصوبے کے لیے رجوع نہیں کیا گیا جو کہ اس طرح کے منصوبوں کے لیے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مجاز ادارہ ہے۔

ارسا کے ترجمان خالد رانا نے بی بی سی کو بتایا انہیں اس منصوبے کا علم نیپرا کے اس اخباری اشہتار کے ذریعے ہوا ہے جس میں نیپرا نے اس منصوبے کے حوالے سے اعتراضات طلب کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ارسا کے لیے ایسے کسی اشتہار کی کوئی حیثیت نہیں جب تک متعلقہ کمپنی یا صوبائی حکومت پانی اور بجلی کی وزارت کے ذریعے ارسا سے با ضابطہ رجوع نہیں کرتے تب تک وہ اس منصوبے کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے۔ تاہم ان کے مطابق ایسے کسی بھی منصوبے کے لیے ارسا سے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے، جس کے لیے ابھی تک تو ارسا سے رجوع نہیں کیا گیا۔