پولیس پر حملے، خاتون ہلاک

پولیس کی گاڑی
،تصویر کا کیپشناس پہلے بھی لکی مروت میں پولیس پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع بنوں اور لکی مروت میں پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں نے پولیس کے تھانوں اور پولیس گاڑی پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ پانچ پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

بنوں پولیس کا کہنا ہے منگل کی شام کو میریان تھانے سے بنوں جانے والی پولیس گاڑی میریان کے قریب سڑک کے کنارے ایک بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں ایس ایچ او نواب خان شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی بھی تباہ ہوگئی ہے اور سڑک کے کنارے ایک گہرا گڑا بن گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ کے بعد پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میریان کے علاقے میں اس سے پہلے بھی پولیس پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں اور کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ادھر لکی مروت میں پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ایک بجے قریب نامعلوم شدت پسندوں نے پولیس لائن اور سٹی چوکی پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں جس میں ایک خاتون ہلاک جبکہ اس کا شوہر زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا حملہ نامعلوم شدت پسندوں نے راکٹوں سے رات کی تاریکی میں پولیس لائن پر کیا جن میں سے ایک راکٹ پولیس لائن کے قریب ایک بینک ملازم کے مکان پر گرا۔ اس حملے میں میں ایک خاتون ہلاک جبکہ اس کا شوہر اسحاق خان زخمی ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرا حملہ سٹی چوکی پر ہوا ہے جس میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

یاد رہے کہ چار جولائی کو سکیورٹی فورسز نے ضلع لکی مروت میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے شروع کیے گئے سرچ آپریشن میں مولانا اشرف علی، مولانا تاج علی اور محمدگل کے مکانات کو مسمار کر دیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پولیس نے شدت پسندوں کے خلاف لکی مروت میں سرچ آپریشن کیا ہے۔ لیکن اس پہلے بھی لکی مروت میں پولیس پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں جس میں پولیس افسروں کے علاوہ دوسرے اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔