ہندو انجینیئر کیس: اہم ملزم گرفتار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی پولیس نے دو سال بعد انجنیئر گریش کمار مہیشوری کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں مفرور اہم ملزم عابد حسین منہاس کو گرفتار کرلیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد سے ہے۔
ایس پی سی آئی ڈی مظہر مشوانی نے بتایا ہے کہ عابد حسین منہاس کو حیدرآباد کے قریب واقع کوٹڑی شہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ عابد حسین منہاس پولیس کو انتہائی مطلوب ملزمان میں شامل تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عابد حسین حیدرآباد اور آس پاس کے علاقوں میں کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد کا نیٹ ورک چلاتے تھے۔ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور ہوسکتا ہے کہ تخریب کاری کے مزید واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد ملیں۔
یاد رہے کہ حیدرآباد کے علاقے لبرٹی مارکیٹ سے دو سال قبل گریش کمار کوان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی لاش پندرہ دن بعد کوٹڑی میں ایک مدرسے کے قریب زمین سے کھود کر نکالی گئی تھی۔
گریش کمار کا تعلق ضلع عمرکوٹ کی تحصیل کنری سے تھا۔ ان کے والد سسپال داس مقامی تاجر اور کونسلر ہیں۔ گریش نے 2006 میں انجنیئرنگ کی تھی۔
سسپال کے مطابق ملزم طاہر منہاس کا کہنا ہے کہ اس نے گریش کمار کو پیسوں کے لیے نہیں بلکہ مارنے کے لے اغوا کیا تھا۔ ان کے مطابق طاہر کا کہناہے کہ کشمیر میں مسلمان مارے جارہے ہیں اس لئے انہوں نے یہاں ایک ہندو کو مارا ہے۔
اس مقدمے میں حیدرآباد پولیس راشد شیخ، طاہر منہاس، جاوید انصاری، محمد اصغر آرائیں، محمد علی انصاری، خادم منہاس اور شاہد منہاس پہلے ہی گرفتار کرچکی ہے۔


















