سؤرگوشت والی پولٹری فیڈ واپس

پاکستان سپریم کورٹ نےسؤر کےگوشت کی ملاوٹ والی پولٹری فیڈ منگوانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
عدالت نےملاوٹ والی فیڈ کےڈیڑھ سو کنٹینرز کو واپس اُنہیں ممالک کو واپس بھجوانے کےاحکامات دیئے ہیں جہاں سے منگوائےگئےتھے۔سؤر کےگوشت کی ملاؤٹ والی پولٹری فیڈ چودہ مختلف کمپنیوں نے منگوائی تھی۔
منگل کےروز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےمقدمے کی سماعت شروع کی گئی تو اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نےعدالت کو بتایا کہ حکومت نے پولٹری فیڈ کو لیبارٹری سے چیک کروایاگیا جس سے ثابت ہوا کہ اس فیڈ میں سؤر کے گوشت کی ملاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں چودہ کمپنیوں پر جُرمانہ عائد کیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں چودہ کمپنیوں کو جُرمانہ بھی کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا ازخود نوٹس لے رکھا ہے۔
عدالت نےحکم دیا ہے کہ سؤر کےگوشت کی ملاوٹ والی فیڈ کےایک سو پچاس کنٹینرز کو، جن کو لاہور اور کراچی میں روکا گیا ہے، تین ہفتوں میں واپس اُنہیں ممالک واپس بھیج دیا جائے جہاں سے منگوائےگئے ہیں یا پھر ان کمپنیوں کے خرچ پر اس ملاوٹ شدہ پولٹری فیڈ کو تلف کر دیا جائے۔
پولٹری فیڈ منگوانے والی کمپنیوں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملاوٹ والی فیڈکو کھاد کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو چیف جسٹس نے کہا کہ جو چیز مرغیوں کی خوراک میں استعمال کرنے میں حرام قرار دیا گیا ہے اُس کو کھاد میں استعمال کرنے کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی میاں اسلم جن کا پولٹری کا کاروبار ہے، کا کہنا ہے کہ سور کےگوشت کی ملاوٹ والی فیڈ آ رہی ہے تو اس میں قصور منگوانے والے کا نہیں بلکہ بھیجنے والے ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پولٹری فیڈ کے لیباٹری سے معائنے کی متضاد رپورٹیں سامنے آئی ہے۔ میاں اسلم کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں سور کاگوشت شامل ہے جبکہ دوسری رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پولٹری فیڈ سور کےگوشت سے پاک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















