سربجیت سنگھ: معافی کی درخواست بدھ کو

سربجیت سنگھ
،تصویر کا کیپشناسلام معاف کرنے کے عمل کو بدلنے سے بہتر قرار دیتا ہے: سربجیت
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں بم حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو ملنے والی سزائے موت کی معافی کے لیے رحم کی اپیل بدھ کے روز صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے روبرو دائر کی جا رہی ہے۔

یہ بات سربجیت سنگھ کے وکیل اویس شیخ ایڈووکیٹ نے پیر کے روز کوٹ لکھپت جیل میں سربجیت سنگھ سے ایک گھنٹے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتائی۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں سربجیت سنگھ نے رحم کی اپیل کے لیے تیار کردہ درخواست پر دستخط کردیے ہیں جس میں صدر پاکستان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سربجیت کی سزا کو معاف کردیں۔

اویس شیخ ایڈووکیٹ نے صحافیوں کے سامنے اس اپیل کا تحریر شدہ متن بھی پڑھا جس میں سربجیت سنگھ نے یہ استدعا کی ہے کہ وہ انیس برس سے جیل میں ہیں اور اپنے مقدمے کی قانونی پیچدگیوں، حقائق اور واقعات سے بالاتر ہو کر انسانیت اور خدا کے ناطے سے اپنی سزا میں معافی کے طلبگار ہیں تاکہ انہیں اپنی باقی زندگی اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزارنے کا موقع مل سکے۔

اپیل کے متن میں صدر پاکستان سے یہ بھی کہا گیا کہ ’آپ کا مذہب اسلام معاف کرنے کے عمل کو بدلہ لینے سے بہتر قرار دیتا ہے۔‘

اویس شیخ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سربجیت سنگھ نے بھارتی وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے صدر پاکستان آصف زرداری پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ وکیل کے مطابق ملاقات میں انہوں نے سربجیت کو ان کے گھر والوں کے پیغامات دیے اور اپنی طرف سے تحفے بھی دیے۔

خیال رہے کہ بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ انیس سو نوے میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ مبینہ طور پر لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوران تفتیش ملزم سربجیت سنگھ نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پرانسداد دہشت گردی کی عدالت نے مذکورہ بھارتی شہری کو موت کی سزا سُنائی تھی اور اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعدازں سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا۔

سربجیت سنگھ کے ورثاء نے اُن کی معافی کے لیے سابق صدر پرویز مشرف کو درخواست دی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا تھا اور انہیں گذشتہ مئی میں پھانسی دی جانی تھی تاہم تین مئی کو حکومتِ پاکستان نے اس پھانسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ رحم کی اپیل صدر کو بھیجتا ہے اور صدر کی طرف سے اپیل منظور ہونے یا مسترد ہونے پر تین ماہ سے ایک سال بھی لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر رحم کی اپیل مسترد کردے تو پھر جیل کے حکام اُس عدالت سے رابطہ کرتے ہیں جس نے مجرم کو موت کی سزا سُنائی تھی تاکہ اس سزا پر عملدرآمد کے لیے بلیک وارنٹ جاری کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد اور مجرم کو پھانسی گھاٹ تک لےجانے تک اگر قیدی کی رحم کی اپیل منظور ہوجائے تو سزا پر عملدرآمد رک جاتا ہے۔