کراچی: چھ ماہ میں سو سیاسی کارکن قتل

کراچی میں سیاسی تشدد(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنسیاسی کارکنوں کی ہلاکت کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سالِ رواں کے پہلی ششماہی میں کراچی میں سو سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں جبکہ مجموعی طور پر شہر میں اس عرصے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نو سو سے زائد ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے بدھ کو اس سال کی پہلی ششماہی رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ کراچی میں سیاسی کارکنوں کی شرحِ ہلاکت میں گزشتہ برس کی نسبت چھبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران نشانہ بنا کر ہلاک کیے جانے والے سیاسی کارکنوں کی تعداد چوہتّر تھی۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مہاجر قومی مومنٹ کے اڑتیس، متحدہ قومی مومنٹ کے اٹھائیس، حکمراں جماعت پاکستان پپلزپارٹی کے گیارہ، عوامی نیشنل پارٹی کے دس، سندھ ترقی پسند پارٹی کے چار، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے دو دو، پاکستان مسلم لیگ (ف)، جسقم اور پنجابی پختون اتحاد کا ایک ایک کارکن ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں حادثاتی اموات کی شرح میں اکیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں خواتین کی شرح میں تراسی اور بچوں کی شرح میں ایک سو باسٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس سال پہلے چھ ماہ کے دوران قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد نو سو اڑتیس ہے جن میں ایک سو انیس خواتین اور چوراسی بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس سال پہلے چھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ قتل کے واقعات جون کے مہینے میں ہوئے۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں سال پہلے چھ ماہ کے دوران اٹھانوے افراد کو ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کیا گیا ، ستّر افراد مزاحمت کرتے ہوئے ڈاکوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے، اکیاون افراد کو اغواء کرنے کے بعد تشدد کرکے ہلاک کیا گیا، انچاس افراد کی مختلف علاقوں سے نامعلوم لاشیں برآمد ہوئیں، مزید انچاس افراد کو لسانی یا نسلی فسادات کے تنیجے میں قتل کیا گیا اور پینتالیس افراد مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران مارے گئے۔ اسی طرح رپورٹ کے مطابق پچیس پولیس اہلکار مختلف واقعات میں ہلاک کیے گئے جبکہ اٹھارہ افراد لیاری گینگ وار کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیالیس خواتین نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کی گئیں، اڑتیس خواتین کو ان کے قریبی رشتے داروں نے قتل کیا، تئیس خواتین جھلس کر ہلاک ہوئیں، دو خواتین کو کاروکاری میں ہلاک کیا گیا جبکہ پانچ خواتین کو لوٹ مار اور ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر ہلاک کیا گیا۔

اس رپورٹ میں نارتھ کراچی میں واقع جھگیوں میں آتشزدگی کو ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا گیا ہے جس میں بیس بچے، بارہ خواتین، اور دس مرد جھلس کر ہلاک ہوئے تھے جبکہ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔