’پنکھے بھی گرم ہوا دیتے ہیں‘

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جلو زئی کیمپ، نوشہرہ
- وقت اشاعت
مالاکنڈ آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین ایک طرف تو خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف حالیہ شدید گرمی کی وجہ سے سخت مشکلات سے دو چار اور پریشان ہیں۔
صوابی کے قریب قائم ترکئی کیمپ میں رہائش پذیر سوات کے ایک شخص عبدالرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’اس شدید گرمی میں نہ تو ٹینٹوں میں بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی باہر نکل سکتے ہیں اور اسی وجہ سے اکثر ایسا لگتا ہے کہ بے ہوش ہو جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ کیمپوں میں پنکھے تو ہیں لیکن یہ پینکھے گرم ہوا دیتے ہیں۔ ٹھنڈا پانی بھی نہیں ہے اور ان کے تین بچے ہیں اور تینوں کا پیٹ خراب ہے اور قے کی بیماری ہے۔
عبدالرحمان کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے تینوں بچے اس وقت بیمار ہیں اور اسی طرح ہر ٹینٹ میں بچے بیمار پڑے ہیں۔ ’پنکھے کی ہوا اتنی گرم ہوتی ہے جیسے کسی نے ہیٹر لگایا ہو اور گرمی کی وجہ سے کبھی باہر جاتے ہیں اور کبھی کہیں اور لیکن کہیں آرام نہیں ملتا ہے۔‘
نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں موجود لوگوں کے بھی حالات کچھ بہتر نہیں ہیں۔
سوات میں گل کدے کے ایک تاجر اکرام الدین کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں ان کے بچے زمین پر سوتے ہیں۔ ’زندگی میں میرے بچے کبھی زمین پر نہیں سوئے۔ بڑے تو صبر شکر کر لیتے ہیں لیکن بچوں کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔‘
سوات سے تعلق رکھنے والی ایک کونسلر شاہ عزت نے بتایا کہ شدید گرمی میں گزارا مشکل ہے۔ ’ہم سوات والوں سے حکومت کا سلوک انتہائی برا ہے۔ کیا ہم مسلمان یا پاکستانی نہیں ہیں؟ پھر حکومت ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے۔‘


















