کاربن ٹیکس معطل،پیٹرول کی قیمت میں کمی

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی معطلی کے بعد اوگرا نے پیٹرول کی نئی قیمت ساڑھے اٹھارہ فیصد کمی کے بعد پچاس روپے اٹھاون پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت چھ اعشاریہ تین فیصد کمی کے بعد اکیاون روپے چھیالیس پیسے فی لیٹر مقرر کر دی ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ ٹویفیکیشن کے مطابق کاربن ٹیکس کی معطلی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں گیارہ روپے پچپن پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں چھ روپے چھیالیس پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے اڑتالیس پیسے کمی کی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> کاربن ٹیکس ہے کیا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090708_carbon_tax_bengali_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو یہ حکم دیا تھا کہ جب تک کاربن ٹیکس کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک کاربن ٹیکس کو معطل کیا جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کے حوالے سے اوگرا ایسی دستاویزات عدالت میں پیش نہیں کرسکی جس کو بنیاد بنا کر پیٹرولیئم کی مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سینیٹر رخسانہ زبیری اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کی طرف سے دائر درخواستوں پر جب عدالت نے کاربن ٹیکس معطل کیا تو اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ وہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو بحال کردیں جس پر عدالت نے کہا کہ اس کو حکومت پہلے ہی ختم کر چکی ہے۔
درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُنہیں پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافے کا حکم کس نے دیا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اوگرا کے وکیل نے پیٹرولیم کی مصنوعات میں قیمیتوں کے حوالے سے عدالت میں جو بریک اپ دیا اُس کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ ایکس ریفائنری میں کیا گیا ہے جو کہ چار روپے سے لیکر چھ روپے تک ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 1961 سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک اس ضمن میں پیٹرولیم مصنوعات کی ریفائنری کے حوالے سے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیش نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ریفائنری انتہائی غیر معیاری انداز میں کی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیکرٹری پیٹرولیم محمود سلیم نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرول کی 80 فیصد پیداوار ملک میں ہی پیدا ہوتی ہے جبکہ ڈیزل کا 70 فیصد دوسرے ملکوں سے منگوانا پڑتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب پیٹرول اتنی زیادہ مقدار میں ملک میں پیدا ہوتا ہے توحکومت کو کم از کم اس پر تو ریلیف دینا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاربن ٹیکس لگانے کا مقصد آلودگی سے پاک ماحول بھی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں بھی کاربن ٹیکس عائد کیا جاتا ہے لیکن وہاں پر اس کے عوض سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
انہوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سیکرٹری ماحولیات نے حکومت کو کوئی سمری بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ کاربن ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ آلودگی سے پاک ماحوال فراہم کیا جاسکے جس کے بارے میں اٹارنی جنرل نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے ان درخواستوں کی آئندہ سماعت پر سیکرٹری ماحولیات کو بھی عدالت میں طلب کرلیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ مالی سال کا بجٹ خسارے میں ہے اور حکومت مختلف مد میں ٹیکس لگا کر دوسرے شعبوں میں سبسڈی فراہم کررہی ہے جس میں بجلی اور گندم پر سبسڈی شامل ہے۔
واضح رہے کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس لگانے کا مقصد اس مصنوعات کے استعمال میں کمی لانا ہے۔
یکم جولائی کو نئے مالی سال کے آغاز پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی جگہ کاربن سرچارج کے نفاذ کے ساتھ ہی پیٹرول کی قیمت میں دس اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے بارہ فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔ کاربن سرچارج کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت پانچ روپے بانوے پیسے اضافے کے ساتھ باسٹھ روپے تیرہ پیسے ہو گئی تھی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل باسٹھ روپے پینسٹھ پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل چوّن روپے چورانوے پیسے فی لیٹر کی نئی قیمت پر فروخت ہونے لگا تھا۔
سنہ 10۔2009 کے فنانس بل میں حکومت نے پیٹرول پر دس روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل پر آٹھ روپے، لائٹ ڈیزل آئل پر تین روپے، مٹی کے تیل پر چھ روپے اور ہائی آکٹین پر چودہ روپے فی لیٹر کاربن سرچارج لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سرچارج کے نفاذ سے حکومتِ پاکستان کو نئے مالی سال میں ایک سو بائیس ارب روپے کی آمدن متوقع تھی۔






















