پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں بدھ کو رات گئے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اتنا ہی اضافہ کر دیا ہے جتنی کہ یہ قیمتیں سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی طور پر معطلی کے بعد کم ہوئی تھیں۔
وزیر اعظم کے مشورے اور صدر کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اس آرڈیننس کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لوئی آرڈیننس کا نام دیا گیا۔
یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس سے فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اسی سطح پر پہنچ جائیں گی جس پر یہ سپریم کورٹ کی طرف سے کاربن ٹیکس کے عارضی طور پر معطل کیئے جانے سے پہلے تھیں۔
سپریم کورٹ نے صرف ایک دن قبل ہی حالیہ بجٹ میں لگائے گئے کاربن ٹیکس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔
سیریم کورٹ نے یہ حکم حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سینٹر رخسانہ زبیری اور پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کی ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا تھا جو کہ گزشتہ حکومت کے دورے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
سپریم کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت جاری ہے اور جمعرات کو عدالت نے وفاقی سیکریٹری ماحولیات کو طلب کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ بجٹ میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لوئی سرچارج ختم کرکے کاربن ٹیکس لگایا تھا۔


















