پیٹرولیم آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کی معطلی کے بعد جاری کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر اسی سطح پر پہنچ گئی تھی جہاں وہ کاربن ٹیکس کے ساتھ تھیں۔
<link type="page"><caption> مہنگے پیٹرول پر احتجاج: ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/07/090709_petrol_prices_as?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=16x9&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>
جمعہ کو اس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں شعیب شاہد ایڈوکیٹ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس نہ صرف آئین کی شق چار، آٹھ اور چودہ سے متصادم ہے بلکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل اکرام چودھری ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس کسی آرڈیننس کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لیے انہوں نے عدالت سے اس آرڈیننس کے خلاف فوری طور پر حکمِ امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ اس درخواست کی سماعت پیر تیرہ جولائی سے کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ میں کاربن ٹیکس کے خلاف ن لیگ کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا کی اصل درخواست اب بھی زیرِ سماعت ہے جبکہ جمعرات کو نمٹائی جانے والی درخواست اسی معاملے پر دائر کی گئی ایک دیگر درخواست تھی۔ خیال رہے کہ اکرام چودھری سینیٹر جھگڑا کے بھی وکیل ہیں۔
خیال رہے کہ اکرام چودھری نے گزشتہ روز بھی عدالت میں کاربن ٹیکس کے خلاف دائر کی جانے والے درخواست کی سماعت کے دوران صدارتی آرڈنینس کو عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ’ اگر اس آرڈنینس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو پھر اس کو دیکھیں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے سات جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ کاربن ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کے نام سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اتنا ہی اضافہ کر دیا جتنی کہ یہ قیمتیں سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی طور پر معطلی کے بعد کم ہوئی تھیں۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کی شام ایک نیوز بریفنگ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے بعد صدر کی طرف سے قیمتیں بڑھانے کے بارے میں جاری کردہ آرڈیننس کا مکمل دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے مشورے پر جاری ہوا ہے۔ وزیراعظم نے عدالتی فیصلے کے برعکس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آرڈیننس کے متعلق بات کرتے ہوئے کافی محتاط الفاظ کا استعمال کیا اور یہ تاثر دیا کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی لیکن تمام اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ پارلیمان کو بالا دست بنانا چاہیے اور پارلیمان بالادست عوام سے ہوتی ہے اور سولہ کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں نے تاریح میں پہلی بار متفقہ طور پر بجٹ منظور کیا جس میں کاربن ٹیکس ملکی حالات کی وجہ سے لگایا گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے؟۔’ہم تو عدلیہ سے کہتے ہیں کہ ہمارا موقف سنیں ہمارے دلائل سنیں ۔۔ جو مالی مشکلات ہیں اس بارے میں ہمارے ماہرین کی رائے سنیں۔۔ اس وقت ہمارے ماہرین کی ٹیم بیرون ملک آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہی ہے اور اس صورتحال میں ان کی کیا پوزیشن ہوگی؟‘
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا آرڈیننس اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو پیش کیا ہے اور اس پر جو بھی عدلیہ فیصلہ کرے گی حکومت اس کا احترام کرے گی ۔۔ ہمیں یقین ہے کہ عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ پارلیمان کی خودمختاری کے حق میں ہوگا‘۔
ادھر پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو بھی متعدد تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی کراچی اور لاہور میں وکلاء اور مزدور تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جن میں نہ صرف حکومت بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی تھی۔






















