سندھ قوم پرست رہنما کے بھائی لاپتہ

ظہیر برفت
،تصویر کا کیپشنظہیر برفت کو روہڑی کے قریب ٹرین میں سے گرفتار کیا گیا تھا: ورثاء
وقت اشاعت

سندھ کی ایک قوم پرست جماعت کے سربراہ کے بھائی کی گمشدگی پر ان کے ورثاء نے احتجاج کیا ہے۔

ظھیر برفت کی خواتین ورثاء خالدہ اور مورزادی برفت نے الزام لگایا کہ ظھیر برفت کو خفیہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہےاور انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔

خالدہ اور مورزادی برفت کی سربراہی میں حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ظھیر کی ہمشیرہ مورزادی کا کہنا تھا کہ ظھیر کو چند روز قبل اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ ایک انٹرویو دینے کے بعد اسلام آباد سے واپس حیدرآباد آرہے تھے۔

چند روز قبل رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے کوئٹہ ایکسپریس کو روہڑی کے قریب سانگی سٹیشن پر روک کر دو گھنٹے تک تلاشی لی تھی۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار رینجرز کے ساتھ تھے اور انہوں نے ٹرین سے ظھیر کو زیر حراست لیا تھا۔

سندھ میں تعینات رینجرز کے ترجمان سے بی بی سی نے فون پر رابطہ کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ دفتری کام کی وجہ سے اسلام آباد میں ہیں اور انہیں اس قسم کی کسی گرفتاری کا علم نہیں ہے۔

تیس سالہ ظھیر برفت جئے سندھ متحدہ محاذ نامی قومپرست جماعت کے چیئرمین شفیع محمد برفت کے چھوٹے بھائی ہیں۔ سندھ پولیس نے حالیہ دنوں صوبے کے اندر ریلوے لائینوں اور پٹھانوں کی دوکانوں پر بم دھماکوں کے مقدمے میں شفیع برفت اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مختلف تھانوں میں رپورٹ درج کیے ہیں۔ شفیع برفت کے اہل خانہ میں سے یہ کسی کی پہلی گرفتاری بتائی جاتی ہے۔

شفیع برفت کئی برسوں سے روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور مشرف دور میں ان کی جماعت کے درجن بھر کارکن لاپتہ ہوئے تھے۔