بلدیاتی نظام تحلیل کرنے کی سفارشات

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پنجاب حکومت نے موجودہ بلدیاتی نظام کو تحلیل کرکے صوبوں کے ماتحت کرنے کے بارے میں مجوزہ آئینی ترامیم وفاقی حکومت کو بھجوادیں ہیں۔ اسی طرح کی سفارشات صوبہ سرحد اور بلوچستان بھی وفاق کو بھیج چکے ہیں البتہ سندھ کی جانب سے وفاق کو کوئی تحریری سفارش نہیں کی گئی۔
پنجاب کے صوبائی وزیر بلدیات نے توقع ظاہر ہے کہ صدر آصف زرداری جلد ہی ناظمین کی جگہ منتظمین تعینات کرنے کی اجازت دے دیں گے۔
لاہور میں پنجاب کابینہ کا اجلاس نوے شاہراہ قائد اعظم پر وزیر اعلی شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا۔اس اجلاس میں نئے اور مجوزہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو منظور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد پنجاب کے وزیر بلدیات دوست محمد کھوسہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس آرڈر دو ہزار ایک میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور اگلے مہینے یہ آئینی ترمیمی سفارشات بھی منظوری کے لیے وفاق کو بھجوادی جائیں گی۔
نئے بلدیاتی نظام کے نافذ ہونے کے بعد بلدیاتی نظام صوبوں کے ماتحت ہوجائیں گے اور صوبائی خود مختاری کو تقویت ملے گی۔
پنجاب کابینہ نے جس نظام کو ختم کرنے کی منظوری دی ہے وہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروایا گیا تھا اور بہت سے انتظامی اور مالی اختیارات صوبوں سے لے کر ضلع تحصیل اوریونین کونسل کی سطح پر منتقل کیے گئے تھے۔
مشرف دور کے نظام میں صوبائی حکومت کے علاوہ افسر شاہی کے اختیارات میں بھی کمی ہوئی تھی لیکن موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اب ان اختیارات کی بحالی چاہتی ہیں۔
پنجاب کے وزیر بلدیات کادعوٰی ہے کہ پرانے مجسٹریٹی نظام کی بحالی پر چاروں صوبوں میں اتفاق پایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب کے وزیر بلدیات دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی تھی کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بلدیاتی انتخابات کم از کم ایک برس کے لیے ملتوی کردئیے جائیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دو روز پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ صوبے کے موجودہ بلدیاتی نظام کو تحلیل کرکے ناظمین کی جگہ ایڈمنسٹریٹر تعینات کردیے جائیں گے۔
اگرچہ وزیر اعظم کے اعلان سے پہلے ہونے والے بین الصوبائی اجلاس میں صوبہ سندھ کا نمائندہ بھی موجود تھا لیکن سندھ نے تاحال پرانے نظام کی بحالی کے معاملے پرکوئی تحریری سفارش وفاق کو نہیں بھجوائی۔ اطلاعات کےمطابق حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم میں اس بارے میں کچھ تحفظات پائے جاتےہیں۔
کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کی مقامی حکومتیں ہیں کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے سندھ کے چند اضلاع میں بلدیاتی انتخابات بروقت کروانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔






















