متاثرین کی گھروں کو واپسی آج سے

حکومت کے اعلان کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے بےگھر افراد کی باقاعدہ واپسی پیر سے شروع ہو جائے گی۔ صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے لوگوں کی واپسی کےحوالے سے جاری ہونے والے نظام الاوقات کے مطابق کیمپوں اور باہر رہنے والے تمام افراد کی واپسی کا عمل تین مرحلوں میں پینتیس دنوں کے دوران مکمل ہوگا۔
اس سلسلے کا پہلا مرحلہ پیر تیرہ جولائی سے شروع ہوگا تاہم کیمپوں میں کام کرنے والے سوات کے چار غیر سرکاری امدادی اداروں کے اتحاد ’ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم‘ کا کہنا ہے کہ حکومتی شیڈول کے برعکس لوگوں نے پہلے سے ہی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
<link type="page"><caption> بے گھر ہونے والے لوگوں کی مشکلات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090712_swat_idps_return_rr.shtml" platform="highweb"/></link>
صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے لوگوں کی واپسی کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے بسوں کے لیے انتظامات کر لیے ہیں اور راستے میں پولیس، فوج اور لیوی بھی تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کی خوراک بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا لوگ اپنے خیمے بھی ساتھ لے کر جائیں گے تاکہ اگر کسی کا گھر مسمار ہوا ہے تو اسے پریشانی نہ ہو۔
اس سوال کے جواب میں کہ فوجی کارروائی کے دوران شہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے تو بجلی، پانی اور اس طرح کی دیگر بنیادی سہولیات کا کیا بندوبست کیا گیا ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ان سب باتوں کو دھیان میں رکھا ہے اور انتظامات کر لیے گئے ہیں۔
عالمی اور مقامی امدادی تنظیموں کی طرف سے سہولیات کی کمی کے بارے میں تنقید کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ جس سطح کے انتظامات کا وہ سوچ رہے ہیں ان کا ہونا ابھی ممکن نہیں ہے۔ ’جتنا ہم سے ممکن ہوا ہم نے کیا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ عالمی ادارے تو اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ پانچ سو چالیس ملین ڈالر کی امداد مانگی گئی تھی اور دو سو ملین ڈالر سے زیادہ آئے بھی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ تعمیر نو میں تو وقت لگے گا اور بعد کا مسئلہ ہے، ابتداء تو ان کی واپسی سے ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں لوگ سوچ رہے ہیں ایسے تو یہ قیامت تک نہیں جا سکیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ شدت پسندوں کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت ختم ہو گئی ہے اور پہلے درجے کی قیادت زخمی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں لوگوں کو واپس جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سوال کے جواب میں کہ کیا ضمانت ہے کہ شدت پسند واپس نہیں آئیں گے صوبائی وزیر نے کہا کہ اسکی ضمانت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ان کو چندہ دے رہے تھے اور لوگوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں، لیکن اب ان کو دشمن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمت کر کے لوگوں کو واپس جانا ہے اور اگر کوئی اکا دکا شدت پسند رہ بھی گئے ہیں تو ان کی نشاندہی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے عالمی امداد نہیں تھی اب جس طرح کی امداد چاہیے وہ مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی جب تک ضرورت ہو گی ان سے کام لیا جائے گا۔
دیر کے ایک رہائشی فضل نعیم نے، جو اب مردان میں ایک خیمہ بستی میں رہ رہے ہیں، بتایا کہ لوگ واپس جائیں گے خاص طور پر وپ جو بہت غریب ہیں اور گھر سے دور ان کا کوئی مناسب بندوبست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کے اپنےعلاقوں میں موسم خوشگوار ہے جبکہ نچلے علاقوں میں گرمی بہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی واپسی کا خوف بھی ہے لیکن لوگ جہاں پر رکے ہوئے ہیں وہاں پر مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ وہ واپسی کو ترجیح دیں گے۔






















