خوشی اور خوف میں گھروں کو واپسی

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جلوزئی کیمپ نوشہرہ
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ میں مقیم ملاکنڈ ڈویژن سے بے گھر ہونے والے افراد کے سوات جانے کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع تو ہوگیا ہے مگر زیادہ تر لوگوں کے چہروں پر بیک وقت خوشی اور خوف کے ملے جلے تاثرات دکھائی دیے اور زبانوں پر حکومت سے شکایات بھی تھیں۔بی بی سی اردو نے ان لوگوں سے واپس اپنے گھروں میں لوٹنے کے بارے میں بات کی ہے۔
محمد جان ، گلدرہ سوات

مجھے واپس لوٹتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ فوجی اور پولیس والے ہمارے بھائی ہیں۔ طالبان بھی ہیں مگر وہ طالبان جو ہمارے بچوں کو سبق پڑھاتے ہیں، نماز، جنازے اور نکاح پڑھواتے ہیں مگر لوگوں کا گلا کاٹنے اور گولی چلانے والے طالبان سے مجھے نفرت ہے۔
میں اپنا گھر دیکھنے چند دن پہلے مینگورہ گیا تھا۔ واپسی میں بہت سی مشکلات پیش آئیں کیونکہ ہر جگہ فوجی پوچھ گچھ کرتے رہے۔ جب میں بری کوٹ پہنچا تو میں نے تقریباً پندرہ خواتین کو وہاں ایک کھیت میں بیٹھے روتے ہوئے دیکھا۔ جب میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ وہ مردان سے واپس آرہے تھے کہ فوجیوں نے انہیں روک کر ان کے مردوں کو پکڑ کر آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں دریا کی طرف لے گئے ہیں۔
بخت سلطان ، تھانہ سوات

ڈھائی مہینے تک کیمپ میں گرمی کی شدت برداشت کرتے ہوئے اب ہم نڈھال ہوچکے ہیں لیکن واپسی کی خبر سن کر خوشی ہوئی۔ میں اس عرصے کے دوران کیمپ کے حکام سے پنکھا مانگتی رہی مگر جب میں واپس جا رہی ہوں تو اب مجھے پنکھا ملا ہے۔
یہاں صرف اس بات پر تھوڑی سی خوش تھی کہ ہمیں تیار کھانا ملتا تھا اور عورت کوجب تیار کھانا ملے تو اسے اور کیا چاہیے۔ اب میری خواہش ہے کہ میں جب اپنے گھر واپس پہنچوں تو اپنے علاقے کو طالبان سے آزاد ہوتا دیکھوں۔ مجھے طالبان اس لیے پسند نہیں ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو قتل کرتے اور ان کے گلے کاٹتے ہیں۔
عبدالکبیر، تھانڑہ سوات

میں تو اپنی مرضی سے نہیں جا رہا ہوں کیونکہ میرے بچے خوفزدہ ہیں کہ وہاں پھر سے جھڑپیں ہوں گی۔ دو دن پہلے بھی ہمارے علاقے میں جھڑپ ہوئی تھی۔ حکومت نے کہا کہ اگر میں نہیں گیا تو بعد میں وہ مجھے گاڑی اور امدا نہیں دےگی۔ میرے پاس لوٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
مجھے حکومت کے دعوؤں پر اعتماد نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ ہمیں واپس لے جا کر پھر نقل مکانی پر مجبور کردے۔ ایسا اس نے باجوڑ کے متاثرین کے ساتھ کیا تھا جب انہیں کہا گیا کہ حالات ٹھیک ہوگئے ہیں اور وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ لیکن جب لوگ اپنے گھروں کو پہنچے تو حکومت نے پھر سے بمباری شروع کردی اور لوگ واپس گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
انور علی ، کیمپ کے نمائندے

ہم تو فوج کے کہنے پر آئے تھے اور اب اس کے کہنے پر ہی واپس جا رہے ہیں۔ ہم کارروائی پر ان سے جتنا خوش ہیں اس سے زیادہ ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ ڈھائی مہینے گزر گئے لیکن ابھی تک زیادہ تر لوگوں کو نقد رقم اور واپس جانے کا راشن نہیں مل رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلوزئی کیمپ میں ستر فیصد لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے اس لیے انہیں مالی امداد نہیں دی گئی ہے۔ کل رات جب ہم واپس جانے والوں کی فہرست بنا رہے تھے تو ستانوے خاندانوں میں صرف چھتیس خانداانوں کی رجسٹریشن ہوئی تھی۔ باقی سارے حکومتی امداد سے محروم ہوگئے۔
حکومت کہتی ہے کہ لوگوں نے رجسٹریشن میں دھاندلی کی ہے اس لیے نادرا اس کا جائزہ لے رہی ہے۔ ٹھیک ہے دھاندلی ہوئی ہوگی لیکن تصدیق کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ جن لوگوں کو پچیس ہزار کا ویزا کارڈ دیا گیا ہے اس میں بعض ایسے بھی ہیں جن میں سرے سے پیسے ہی نہیں ہیں۔
نیک زادہ ، بری کوٹ

میں واپسی پر خوش تو ہوں لیکن ہمارے ساتھ تو دھوکہ کیا گیا۔ ڈھائی مہینے ہوگئے مجھے پچیس ہزار روپے نہیں دیےگئے ہیں۔ آج سوموار کو واپس جاتے ہوئے بھی راشن دینے سے انکار کیا گیا کیونکہ کہتے ہیں کہ آپ کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے۔ اب واپس جا کر کیا کروں گا۔ ہمارا تو سب کچھ تباہ ہوگیا۔ کاروبار ختم ہوگیا ہے۔ واپس جاکر کھائیں پئیں گے کیا؟






















