حافظ سعید کیس: پنجاب دستبردار

حافظ سعید
،تصویر کا کیپشن اقوام متحدہ نے حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کر رکھی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پنجاب حکومت نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی کے خاتمے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس حوالےسے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رضا فاروق نے منگل کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے حافظ سعید کی نظر بندی کے خاتمے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی حکومت کے کہنے پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں دیے جس کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت میں پنجاب حکومت اپنا موقف پیش کرے کہ حافظ سعید کی نظربندی کے خاتمے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

منگل کو ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں پنجاب حکومت کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اُنہیں کچھ مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اس مقدمے کی سماعت سولہ جولائی تک ملتوی کر دی۔

حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست واپس لے چکی ہے اس لیے وفاق کی درخواست غیر موثر ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کے احکامات صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری نے دیے تھے اس لیے جب پنجاب حکومت نے درخواست واپس لے لی ہے تو مقدمہ خود بخود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ حافظ سعید اور کرنل ریٹائرڈ نذیر احمد کی نظر بندی کے خاتمے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب اور وفاق نےگذشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی تھیں۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ نے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس لیے حافظ سعید کی رہائی سے شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں حکومت کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اقوام متحدہ نے جماعت الدعوۃ پر پابندی گذشتہ برس بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد عائد کی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے حوالے سے دائر مقدمے میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ایک اہم رکن معین الدین لکھوی کو بھی گرفتار کیا ہے۔