مہمند:جھڑپوں میں پندرہ طالبان ہلاک

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں پندرہ طالبان ہلاک اور تین رضا کار زخمی ہو گئے۔
فرنٹیئر کور کے ترجمان میجر فضل نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپ پیر کی رات امبار کے علاقے کوہ مور غر میں ہوئی ہے۔انہوں نے دعوٰی کیا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں پندرہ طالبان ہلاک ہو ئے جبکہ جوابی کارروائی میں تین رضاکار بھی زخمی ہوئے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں چار رضا کار زخمی ہوئے جن میں سے ایک نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی سے تقریباً چالیس کلومیٹرشمال مشرق کی طرف ہوئی۔یہ ایک پہاڑی علاقہ بتایا جاتا ہے جہاں پر عام آبادی کم ہے۔ اس علاقے کی سرحدیں قبائلی علاقے باجوڑ اور مالاکنڈ ایجنسی سے ملتی ہیں۔
کوہ مور کے اسی علاقے میں تقریباً دس روز پہلے بھی قبائلی لشکر اور طالبان کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں کئی رضاکار اور طالبان ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں منگل کی صبح مشتبہ عسکریت پسندوں نے نیٹو فورسز کے لیے تیل لے جانے والی گاڑیوں پر حملہ کیا جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تیل سپلائی کرنے والے آئل ٹینکر افغانستان کی طرف جا رہے تھے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ ان کے بقول حملے میں ایک کنڈکٹر ، ایک مقامی شخص ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں کسی قسم کی جانی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی۔واقعے کے وقت پاک افغان شاہراہ بند ہو جانے کی وجہ سے تیل کی سپلائی معطل ہوگئی تاہم بعد میں شاہراہ کھلنے کے بعد سپلائی دوبارہ بحال ہوگئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















