واقعی طالبان کے گھر مسمار تھے: معاذ اللہ

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
جنگ سے بھاگ کر آنے والے سوات کے معاذ اللہ نے زندگی میں پہلی مرتبہ دو ماہ سے زائد کا عرصہ کیمپ میں دگرگوں حالت میں گزارا اور جب انہیں حکومت کی جانب سے واپس جانے کی خوشخبری ملی تو ان کے دل میں سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ واپس جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ کیا واقعی طالبان کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔
وہ جب پیر کو واپس سیدو شریف پہنچے تو بقول ان کے ’پہنچتے ہی میں سب سے پہلے سیدو بابا کے علاقے گیا اور وہاں دیکھا کہ بعض طالبان کے مکانوں کو تباہ کردیا گیا تھا اور وہ زمین بوس ہوگئے تھے۔‘
معاذاللہ نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’طالبان کے مکانوں کو زمین بوس دیکھ کر میں بہت ہی خوش ہوا کیونکہ انہی لوگوں کی وجہ سے ہمارے گھر بار لٹ گئے اور ہم نے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں۔میں نے سوچا کہ اچھا ہوا اب طالبان ایسا کام دوبارہ نہیں کریں گے۔‘
اس کے بعد معاذاللہ اپنے گھر پہنچے جو انہوں نے صیحح حالت میں پایا البتہ ان کے مطابق سیدو بازار میں کئی عمارتیں تباہ کردی گئی ہیں۔ان کے مطابق’جنگ کے ابتدائی دنوں میں طالبان نے کچھ عمارتوں پر قبضہ کیا اور ان میں سے کچھ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا اور کچھ سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں تباہ ہوئے ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے جب وہ پہلی مرتبہ شہر میں داخل ہوئے تو وہاں پر عجیب سے خاموشی تھی اور بہت ہی کم لوگ گھومتہ پھرتے نظر آئے۔بازار میں چند ہی دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آنے سے پہلے انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں وہاں طالبان کا قبضہ نہ ہو یا پھر وہی صورتحال نہ ہو جسکی وجہ سے وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن پہچ کر دیکھا تو ایسا کچھ نہیں تھ لیکن اب آہستہ آہستہ ان کا خوف ختم ہورہا ہے۔‘
معاذاللہ کہتے ہیں کہ پانی، بجلی ، ٹیلی فون اور گیس کا نظام بحال ہے مگر اس وقت لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی اشیاء کی کمی ہے۔ بازار میں سب کچھ ختم ہوگیا ہے اور جو کچھ بچا ہوا اسکی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ٹماٹر ستر روپے کلو مل رہا ہے، چینی نہیں ہے جبکہ سب سے سستی چیز شفتالو ہیں جو دس روپے کلو ہیں۔
ان کا کہنا ہے انہیں اور باقی جو چند ایک لوگوں کو اپنے ان عزیز و اقارب کا انتظار ہے۔ ’جب وہ لوگ آئیں گے تو شہر میں رونق آئے گی اور پھر ہمیں بھی یہ احساس ہوگا کہ اب سوات، سوات ہے۔‘’


















