طالبان: کنوؤں سے کانوں تک

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ایک عام سے محلے کی تنگ تاریک ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے گزر کر ایک مکان کے دروازے پر پہنچے تو دروازہ غائب تھا۔ دروازہ زبردستی توڑنے کا ثبوت بکھری اینٹیں اور دیگر ملبہ تھا۔ اس سے واضح تھا کہ اسے زبردستی گرایا گیا ہے۔
یہ ایک مکان ہے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کے محلہ قاضی بابا کا۔ اس پرانے محلے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کے کئی مکانات میں خاص کنوئیں ہیں۔ ان کنوؤں کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ محض پانی کا ذریعے نہیں بلکہ ان سے قیمتی پتھر زمرد بھی نکالا جاتا ہے۔
اس جانب ہماری توجہ کی وجہ علاقے میں موجودگی کے دوران فوجیوں کا ایک مقامی رہائشی آصف اقبال کو مختصر مدت کے لیے حراست میں لیا جانا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے واپس آتا دیکھ کر دریافت کیا کہ فوجی کیوں پکڑ کر لے گئے تو اس نے بتایا کہ انہیں شک تھا کہ یہاں ان کنوؤں میں طالبان موجود ہیں۔
پوچھا وہ کیسے تو وہ ہاتھ پکڑ کر ساتھ ان تنگ گلیوں میں لے گیا۔ ’آئیں آپ کو بتاؤں یہاں ہو کیا رہا تھا۔‘
چھوٹے سے مکان میں داخل ہوئے تو کھلے صحن کے ایک جانب ایک کنواں دکھائی دیا۔ لیکن کنویں پر کوئی ڈول یا بالٹی بندھی نظر نہ آئی بلکہ لوہے کی سلاخ نظر آئی۔ پوچھا یہ کیا ہے تو بتایا کہ یہ یہاں پانی نہیں بلکہ زمرد نکالنے کے لیے مزور بیٹھ کر نیچے اترتے ہیں۔
لیکن اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہمارے لیے اس کی یہ تھی کہ زمرد کی خاطر ان کنوؤں میں میلوں تک لمبی کانیں کھودی گئی ہیں جو کہ زیر زمین ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
ہمیں بھی نیچے اترنے کی پیشکش کی گئی لیکن وقت کی کمی اور اندھیرے کے خوف نے ایسا کرنے سے منع کیا۔ آصف اقبال کے مطابق اس محلے میں درجن بھر مکانات میں اس قسم کے کنویں اور ان میں غار ہیں۔
اسی محلے کے ایک رہائشی فضل معبود نے بتایا کہ ’فوج کو شک تھا کہ ان کانوں میں غیرملکی شدت پسند چھپے ہوسکتے ہیں۔ فوجی یہاں آئے ان کنوؤں کی تلاشی لی اور ایک میجر صاحب خود بھی نیچے اترے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا لہذا انہیں خالی ہاتھ آنا پڑا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی آبادی نے بتایا کہ طالبان نہ صرف زمرد کی سرکاری کانوں پر قابض تھے بلکہ ان مکانات پر بھی انہوں نے قبضہ کر لیا تھا اور یہاں سے بھی کانکنی کر رہے تھے۔
اس کا ثبوت ان مکانات کی دیوراوں پر ’تحریک طالبان پاکستان زندہ باد‘ جیسے نعرے لکھا ہونا بھی تھا۔ فوجی آپریشن کی آغاز کے بعد بظاہر شدت پسند اتنی جلدی میں وہاں سے چلے گئے کہ اپنے جوتے اور کپڑے بھی نہ لےجا سکے۔ تاہم فوجی بعد میں وہاں سے ڈرل مشینیں اور دیگر سامان ساتھ لے گئے۔
سوات میں زمرد کے ذخائر سابق والی سوات کے زمانے میں سن انیسں سو باسٹھ میں دریافت ہوئے تھے۔ یہ ذخائر فضا گٹ کے علاوہ سوات کے ایک اور علاقے شموزئی اور ضلع شانگلہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔

ماضی میں حکومت نے ان کانوں کو غیرقانونی کہتے ہوئے بند کروا دیا تھا تاہم طالبان نے مینگورہ پر قبضے کے بعد اس پر کام دوبارہ شروع کر دیا تھا۔
کنوؤں کے راستے بنائی گئی ان کانوں میں مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے دن رات کام ہو رہا تھا۔ اس کا ثبوت ان مکانات کے صحن میں نکالا گیا ملبہ اور اسے چھاننے کے لیے چھلنی کی موجودگی بھی تھی۔
زمرد سبز رنگ کا ایک قیمتی پتھر ہے جو عام طورپر زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔ قیمتی پتھروں کے ماہرین کے مطابق زیادہ تر زمرد کے پتھر ایک سے پانچ قیرٹ پر مشتمل ہوتے ہیں جس کی قیمت پچاس ہزار روپے سے لےکر لاکھوں میں ہوتی ہے۔ تاہم قیمت کا دارومدار پتھر کی کٹائی اور معیار پر ہوتا ہے۔
ایک رہائشی نے بتایا کہ فوجیوں نے ان غیرقانونی کانوں کو ختم کرنے کی ایک تجویز ان کو بموں سے اڑانے کی دی تھی تاہم مقامی لوگوں نے یہ کہہ کر اس تجویز کی مخالفت کی کہ اس سے چار ہزار افراد کا یہ محلہ ہی زمین بوس ہو جائے گا۔
پہلے خیال تھا کہ طالبان محض سرکاری کانوں میں سے زمرد نکال رہے ہیں لیکن ان مکانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہاں بھی قبضہ کرکے یہاں وسیع پیمانے پر کانکنی کی۔






















