متاثرین کی واپسی دوسرے مرحلے میں

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سے مالاکنڈ ڈویژن کے بے گھر افراد کی واپسی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔
حکام نے پہلے مرحلے میں تین ہزار کے قریب خاندانوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا لیکن جاری گیےگئے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران صرف پندرہ سو باسٹھ خاندان ہی واپس جا سکے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں بدھ کے روز مردان، صوابی اور نوشہرہ کے کیمپوں سے درجنوں خاندان سوات اور بونیر کے لیے روانہ ہوئے ہیں جبکہ چارسدہ کے کیمپوں میں مقیم زیادہ تر افراد نے پچیس ہزار روپے نقد رقم کی عدم فراہمی کی وجہ سے واپس جانے سے انکار کردیا ہے۔
پاکستانی فوج کے سپیشل سپورٹ گروپ کے ترجمان کرنل وسیم نے بتایا کہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں دوسرے مرحلے میں قدرے تیزی دیکھی گئی ہے اور بدھ کی دوپہر تک کیمپوں اور کیمپوں سے باہر چودہ سو خاندان سوات اور بونیر کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں پندرہ سو باسٹھ خاندان واپس جاچکے ہیں جو حکومتی توقعات کے مطابق نہیں ہیں تاہم ان کے بقول واپسی کے عمل میں اب اس لیے تیزی آرہی ہے کیونکہ سوات اور بونیر پہنچنے والے لوگوں نے بے گھر ہونے والے دیگر افراد کو وہاں کی حالات کے بارے میں مثبت تصویر پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق حکومت نے تمام بے گھر افراد کوچالیس روز کے اندر واپس بھیجنا ہے لیکن واپسی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ سلسلہ پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔
اگرچہ حکومت ایسا تاثر دے رہی ہے کہ لوگوں کی واپسی میں تیزی آرہی ہے مگر کیمپوں میں کام کرنے والے امدادی اداروں کے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ اب بھی لوگوں کے اپنے علاقوں میں سکیورٹی کے خدشات اور حکومت کی طرف سے نقد رقم نہ دینے کی شکایات موجود ہیں۔ ان کے بقول اس لیے ان افراد کی شاید مکمل واپسی بہت جلد ممکن نہیں ہوسکے گی۔
صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے قائم کیے گئے ادارے ایمرجنسی رسپانس یونٹ کا کہنا ہے کہ واپسی کا تیسرا مرحلہ سترہ جولائی سے شروع ہوگا جس میں مینگورہ ،حاجی آباد،ملوک آباد، گلکدہ اور سیدو شریف کے لوگ واپس جاسکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمپوں سے باہر رہنے والے لوگ اپنی گاڑیوں میں دوپہر ایک بجے کے بعد جا سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق اپنی مرضی سے جانے والوں کو اجازت نامے اور گاڑیوں پر اسٹکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے البتہ چیک پوسٹوں پر تلاشی کے لیے خاندانوں کے سربراہ اپنے ساتھ شناختی دستاویزات رکھ لیں۔
دوسری طرف صوبہ سرحد کے چیف سیکریٹری جاوید ریاض نے بے گھر افراد کو نقد رقم میں تاخیر کی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے قائم کیے گئے ادارے ایمرجنسی رسپانس یونٹ کے بیان کے مطابق اجلاس میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، نادرہ اور متعلقہ بینک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ بیان کے مطابق اجلاس میں متاثرین کو نقد رقم فراہم کرنے میں تاخیر سے متعلق متعلقہ اداروں کے نمائندے اپنا مؤقف پیش کریں گے تاکہ حکومت واپسی کے عمل میں مؤثر بنانے میں اپنی پالیسی پر ازسرِ نو غور کرے۔






















