کبل:’غیر ملکیوں سمیت آٹھ شدت پسند ہلاک‘

سوات آپریشن
،تصویر کا کیپشنحکومت کی جانب سے سوات سے طالبان کو مار بھگانے کے دعوے کیے گئے ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستانی فوج نے سوات کی تحصیل کبل میں سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں دو غیر ملکیوں سمیت آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعہ میں ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز تحصیل کبل میں تلاشی کے عمل میں مصروف تھیں کہ اس دوران ان کا طالبان جنگجؤوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بیان میں دو غیر ملکیوں سمیت آٹھ جنگجوؤں اور ایک فوجی اہلکار کے ہلاک ہونے اور تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعوٰی کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بھی واقعہ کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے فوج کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی جاری کی گئی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے پہلے فورسز پر حملہ کیا جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی۔

اگرچہ پاکستانی فوج کا دعوٰی ہے کہ انہوں نےسوات میں طالبان جنگجوؤں کی کمر توڑ کر انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے مگر کبل میں اس حملے سے بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ طالبان اب سوات کے کئی علاقوں میں موجود ہیں اور ان میں مزاحمت کی صلاحیت بھی ہے۔

یہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت سوات سے بےگھر ہونے والے افراد کو واپس ان کے گھروں کو بھیج رہی ہے اور واپس جانے والے لوگوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر واپس جانے سے بظاہر کترارہے ہیں۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں پولیس اور فرنٹیئر کور کی ایک مشترکہ موبائل ٹیم پر حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔بنوں پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پولیس اور فرنٹیئر کی ایک مشترکہ موبائل ٹیم بکاخیل کے علاقے میں گشت پر تھی کہ ان کی گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے کی زد میں آئی۔

زخمیوں میں چھ پولیس اور ایک فرنٹیئر کور کا اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں کو بنوں ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ بکاخیل بنوں شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور واقع ہے جن کی سرحد شمالی وزیرستان سے ملتی ہے۔