’غیر قانونی اسلحہ کی روک تھام ضروری‘

وسیم احمد
،تصویر کا کیپشنہم اپنے سراغ رسانی کے نظام میں بھی بہتری لائے ہیں:وسیم احمد
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی وسیم احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے کے لیے پولیس کئی اقدامات کر رہی ہے جن میں غیرقانونی اسلِحہ کی اسمگلنگ روکنا بھی شامل ہے اور اس کے لیے پولیس جدید ترین موبائل سکینرز حاصل کر رہی ہے تاکہ گاڑیوں میں چھپے ہوئے غیرقانونی اسلِحے کی نشاندہی ہوسکے۔

بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ایڈیشنل آئی جی وسیم احمد کا کہنا تھا کہ غیرقانونی اسلحہ زیادہ تر بڑی گاڑیوں یا ٹرکوں کے ذریعے کراچی منتقل کیا جاتا ہے اور خفیہ اطلاعات پر پولیس چھاپوں کے دوران یہ اسلحہ پکڑا جاتا ہے۔

ان کے مطابق جدید موبائل اسکینرز پولیس ملنے کے بعد غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ پر قابو پانا بہت حد تک ممکن ہوسکتا ہے۔

وسیم احمد کے بقول ملک اور خاص طور پر کراچی میں غیر قانونی اسلحہ بڑی مقدار میں آچکا ہے اور اگر پچھلے سال کے اعداد و شمار کا مقابلہ اس سال سے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال پولیس اوسطاً گیارہ غیر قانونی ہتھیار ہر روز برآمد کر رہی تھی اور اس سال یہ تعداد بڑھ کر چودہ ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیاسی کارکن یا لسانی بنیادوں پر ہونے والی قتل کی وارداتوں میں غیرقانونی اسلِحہ استعمال کیا جاتا ہے، تو ان وارداتوں پر قابو پانے کے لیے غیرقانونی اسلحہ کی برآمدگی سرفہرست ہے‘۔ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی میں جون کے مہینے میں سینتالیس اور جولائی کے وسط تک مختلف سیاسی جماعتوں کے اکیس ارکان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ہیں، اس طرح تقریباً ایک ہفتے کے دوران اوسطاً گیارہ سیاسی کارکنوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔

ان کے بقول ’یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے ارکان دوسری جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم نے مختلف اقدامات کیے ہیں، اور نفری کے تعیناتی کے انداز اور اپنی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل کیا ہے جس سے ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری حکمتِ عملی کا مثبت نتیجہ برآمد ہوگا‘۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم اپنے سراغ رسانی کے نظام میں بھی بہتری لائے ہیں جس سے ہمیں بروقت اطلاعات موصول ہوں گی جو ہمیں پہلے نہیں مل رہی تھیں ہمارے پاس ان لڑکوں کے نام بھی آگئے ہیں جو ان وارداتوں میں ملوث ہیں لیکن ان کی گرفتاری میں سیاسی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسی تمام سیاسی جماعتوں سے میری درخواست ہے کہ جن میں دہشت گرد داخل ہوگئے ہیں وہ انہیں اپنی جماعت سے نکالیں کیونکہ ان واقعات سے پورے ملک کی بدنامی ہورہی ہے اور اگر کراچی کے حالات خراب ہوتے ہیں تو پورا ملک متاثر ہوتا ہے‘۔

سید وسیم احمد نے کہا کہ ’میں پچھلے کچھ مہینوں سے حکومت کے سامنے یہ نکتہ اٹھاتا رہا ہوں کہ غیرقانونی اسلِحہ کی برآمدگی کے حوالے سے ہمارے ہاں قانون موجود ہے جو سرنڈر آف اللیسیٹ آرمز ایکٹ 1991 کہلاتا ہے‘۔ اس قانون کے تحت عوام کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی اسلحہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایک خاص تاریخ تک جمع کرا دیں اور اس تاریخ کے بعد غیرقانونی اسلحہ کی برآمدگی کی صورت میں انہیں گرفتار کرلیا جائے گا اور اس کی سزا عمر قید ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے غیرقانونی اسلحہ رکھنے والا طویل عرصے جیل سے باہر نہیں آسکے گا جس سے لوگوں میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا خوف پیدا ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ موجودہ نافذالعمل قانون کے تحت ایک ملزم کو تین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

سید وسیم احمد نے کہا کہ وزیرداخلہ رحمان ملک نے اپنے حالیہ دورے میں بتایا ہے کہ کراچی پولیس کو موبائل سکینرز دیے جائیں گے جس کے ذریعے چھپائے گئے اسلحے کی نشاندہی ممکن ہوسکے گی۔ یہ سکینرز پولیس کی گاڑیوں میں لگیں ہوں گے اور انہیں کسی بھی سڑک پر کھڑا کرکے گزرنے والی گاڑیوں میں غیرقانونی اسلحہ کی نشاندہی کی جاسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرقانونی اسلحہ رکھنے والوں یا کسی جرم کی اپنے موبائل فون سے اگر ممکن ہو تو ویڈیو بنا کر پولیس کو ارسال کرسکتے ہیں اور ایسے شخص کو پانچ لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا جبکہ اس کی شناخت بھی خفیہ رکھی جائے گی۔