ایران کواسرائیلی پیغام

- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, بی بی سی تجزیہ نگار
- وقت اشاعت
اس ہفتے کے اوائل میں اسرائیل کے دو انتہائی جدید جنگی جہازوں پہلی بار نہر سویز عبور کر کے بحیرہ احمر کی جانب گئے ہیں۔ پچھلے ماہ اسرائیل کی ڈالفن کلاس کی آبدوز نےبھی نہر سویز کو عبور کر کے بحیرہ احمر کا رخ کیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق بحیرہ احمر میں جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی نقل وحرکت ایران کےخلاف ممکنہ حملے کے تیاریوں کے سلسلے میں ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری مشقیں نہ صرف ایران کے لیے واضع پیغام ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ مشقیں مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک خاموش تعاون کی جانب بھی اشارہ ہیں۔دونوں ملک ایران کو خطے کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ اِس ہفتے اسرائیلی بحریہ کے دو انتہائی جدید جہاز نہرِ سویز سے ہوتے ہوئے.
اِس کے علاوہ گزشتہ ماہ کے اواخر میں اسرائیل کی دو آبدوزیں نہرِ سویز سے ہوتے ہوئی کچھ دیر کے لیے بحرہ احمر میں رکی تھیں۔
کھلے عام ہونے والی اِن سب مشقوں کا ایک واضع مقصد ہے۔ یہ مشقیں ایران کو خبردار کرنے کی ایک کوشش تھی کہ اگر وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھتا ہے تو اسرائیل کے پاس بھی فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کی کچھ آبدوزوں میں زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل داغنے کی صلاحیت موجود ہے۔یہاں تک کہ بعض رپوٹوں کے مطابق کچھ اسرائیلی آبدوزیں جوہری ہتھیاروں سے بھی لیس ہو سکتی ہیں۔
بحرہ احمر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دلچسپی صرف ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے ہی نہیں ہے۔ اسرائیل کو فلسطینی علاقے غزہ میں اسلحے کی اسمگلنگ پر بھی سخت تشویش ہے۔
مبصرین کے خیال میں ایران سے زیادہ تر اسلحہ اِسی سمندری راستے سے ہوتا ہوا سوڈان اور پھر مصر پہنچتا ہے۔ گزشتہ مارچ میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے سوڈان میں ایک قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں اسلحہ لے جایا جا رہا تھا۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ واضع ہے کہ اسرائیل کی مسلح افواج کی کارروائیوں کے لیے بحرہ احمر تیزی سے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔


















