تحقیقاتی کمیشن کا دورۂ لیاقت باغ

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے حقائق جاننے کے لیے تشکیل دیے جانے والے اقوام متحدہ کے’ کمیشن آف انکوائری‘ کے ارکان نے جمعہ کو لیاقت باغ راولپنڈی کا دورہ کیا ہے۔
ان کے اس دورے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
<link type="page"><caption> کمیشن کے ارکان کا تعارف</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090716_comission_detail_rr.shtml" platform="highweb"/></link>
تین رکنی کمیشن نے لیاقت باغ کے قریب اس جگہ کا معائنہ کیا جہاں بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تھا اور اس کے علاوہ جلسہ گاہ میں اس مقام کا جائزہ بھی لیا ہے جہاں بے نظیر بھٹو کے آخری خطاب کے لیے سٹیج بنایا گیا تھا۔
تفتیشی ٹیم نے جائے واردات کی تصویریں حاصل کی ہیں اور خاکے بھی بنائے۔ تحقیقاتی کمیشن کے ارکان جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔
گزشتہ روز اس کمیشن کے ارکان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور آج لیاقت باغ کا دورہ کیا ہے جبکہ ان کی تحقیقات کے سلسلے میں کمیشن کے ارکان دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کمیشن کے ارکان کو اب تک کی تحقیقات سے آگاہ کیا ہے۔
جمعرات کو کمیشن کے ارکان کی پاکستان آمد کے بعد کمیشن کے ترجمان بین میلور نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ کمیشن کا مینڈیٹ یا دائرہ کار قتل کے حقائق اور حالات معلوم کرنا ہے۔ کمیشن کا یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ کرمنل انویسٹیگیشن یا فوجداری تحقیقات کرے۔ایسا کرنا پاکستانی حکام کی ذمہ داری ہے‘۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ تین رکنی کمیشن کی مدد کے لیے کچھ عملہ بھی کام کر رہا ہے جو کمشنرز کی ہدایت پر معلومات اکٹھی کرنے کے لیے مختلف لوگوں کے انٹرویو بھی کرےگا۔
خیال رہے کہبے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کا ایک تین رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو تین دن کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی تحقیقاتی ٹیموں کے علاوہ برطانیہ کی سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















