نواز شریف طیارہ سازش مقدمے میں بری

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں بری کرتے ہوئے ان کو ملنے والی تمام سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جمعہ کو اسلام آباد میں جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے نظر ثانی کی درخواستوں پر اپنا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کوئی ٹھوس شواہد نہیں پیش کر سکا ہے۔
<link type="page"><caption> نواز شریف کی بریت پر کارکنوں کا جشن:تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090717_pics_pmln_supporters_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
پچپن صفحات پر مشتمل اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف پر دہشت گردی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ فیصلے کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق نہیں ہوئی اور وعدہ معاف گواہ قانون پر پورا نہیں اُترتے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج سے قبل ایجنسیوں نے دس افراد سے رابطہ کیا تھا اور اس کا اندراج ایک ماہ کے بعد ہوا۔ اگر یہ مقدمہ بروقت دائر ہوتا تو اس بات کا امکان تھا کہ تفتیشی افسران کے اس بارے میں مزید شواہد مل جاتے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کا مدعی لیفٹیننٹ کرنل عتیق الزمان کیانی تھے جنہیں خود بھی طیارے کے اغوا کے بارے میں معلومات بہت کم تھیں۔ اس کے علاوہ اس مقدمے کی تفتیش شروع ہونے سے پہلے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو ثبوت فراہم کیے گیے تھے جن کا ذکر اس مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مقدمے کے ریکارڈ میں نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے طیارے کا رُخ موڑنے کے حوالے سے جہاز کے پائلٹ اور ائر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ جو بات چیت ہوئی تھی اُس کی ریکارڈنگ تاخیر کے ساتھ تفتیشی افسر کو دی گئی تاہم اس میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ بات چیت کہاں سے حاصل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے میاں نوا شریف کی سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ عدالت نے نظرثانی کی اس درخواست کی سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے پیش کیے گئے صدارتی معافی نامے کو اس درخواست پر کیے جانے والے فیصلے کا حصہ نہیں بنایا۔ جبکہ اس حوالے سے سندھ کے پراسکیوٹر جنرل نے عدالت میں اس معافی نامہ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ کے پراسکیوٹر جنرل شہادت حسین اعوان کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سندھ حکومت کرے گی جبکہ اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ عدالت عظمی کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسکیوٹر جنرل نے نظرثانی کی اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی سزا کو برقرار رکھنے کی استدعا کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ نظرثانی کی یہ درخواست زائدالمعیاد ہے جس کو خارج کیا جانا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نظرثانی کی یہ درخواست فیصلے کے 3072 دنوں کے بعد دائر کی گئی ہے۔ جبکہ قانون میں درج ہے کہ کسی بھی عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست 30 دنوں میں دائر کی جاسکتی ہے۔
نظرثانی کی اس درخواست کی پیروی خواجہ حارث نے کی جن کا موقف تھا کہ اُن کا موکل وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں بیٹھا ہوا تھا وہ کیسے طیارے کو اغوا کرسکتا ہے جس میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سوار تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے میاں نوا شریف کی حکومت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔
نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے عدالت میں میاں نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے پرویز مشرف حکومت کے ساتھ ہونے والے دس سالہ معاہدے کی کاپی عدالت میں پیش کی تھی جس پر پاکستان مسلم لیگ نون نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے شدید احتجاج کیا تھا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کو اس مقدمے کی پیروی سے الگ کردیا تھا۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 12 اکتوبر سنہ 1999 چیف آف آرمی سٹاف مشرف کے طیارے کا رخ موڑنے کا حکم دیا تھا۔ طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کے علاوہ میاں شہباز شریف، سید غوث علی شاہ، احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمن، اُس وقت میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی، سابق آئی جی سندھ رانا مقبول اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل امین اللہ چوہدری شامل ہیں۔
کراچی کے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد میاں نواز شریف کے علاوہ تمام افراد کو بری کردیا تھا جبکہ امین اللہ چوہدری اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔
جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے طیارہ اغوا کرنے کی سازش میں میاں نواز شریف کو عمر قید اور جُرمانے کی سزا سُنائی تھی۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اُنہیں اس پرواز میں آنے والے مسافروں کو بیس لاکھ روپے فی کس ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ بعدازاں اُس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے میاں نواز شریف کو اس مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معاف کردیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ سُناتے ہوئے میاں نواز شریف کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دے دیا تھا تاہم طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کو ملنے والی سزا کو انتخابی عُذر کے طور پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا تھا۔
واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بحال ہونے کے بعد 27 اپریل کو دائر کی تھی جس پر عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے بعد 18 جون کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔






















