برطانیہ: مزید دو پاکستانیوں کی رہائی

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت برطانیہ نے اپریل میں دہشتگردی کے قانون کے تحت گرفتار کیے جانے والے مزید دو پاکستانیوں کو رہا کرنے اور ملک بدر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آٹھ اپریل کو برطانیہ کے شمال مغربی علاقوں سے گرفتار گیارہ پاکستانیوں میں دس طلبہ تھے جن میں سے ایک رہائی کے بعد پہلے ہی پاکستان لوٹ چکے ہیں۔
اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس رہائی کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم رہا ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
بیان میں ہائی کمیشن کی ترجمان جینفر والکس نے ان افراد کو ان تحقیقات کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایسی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ان افراد کی تفصیلی تفتیش ضروری تھی۔
ان کا موقف تھا کہ تحقیقات کے دوران ان افراد کو برطانوی قانونی مدد مہیا کی جاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ بھی روک دیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنے پاکستانی ابھی بھی زیر حراست ہیں۔

بیان میں ان گرفتاریوں پر پاکستانی عوام کی تشویش کو بجا قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ حکومت برطانیہ نے اس تفتیش کی دوران برطانوی قانون کے اندر رہتے ہوئے تمام کارروائی کی ہے۔ بیان میں ان گرفتاریوں کا دفاع یہ کہتے ہوئے بھی کیا گیا ہے کہ یہ برطانوی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں۔
گرفتار پاکستانیوں کے رشتہ دار پہلے دن سے ان طلبہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے انہیں ان کی تعلیم جاری رکھنے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان بھی برطانیہ سے ان افراد کے بے گناہ ثابت ہونے پر انہیں ملک بدر نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
گرفتار افراد میں سے اس سال جون میں واپس لوٹنے والے واحد پاکستانی طارق الرحمان نے الزام عائد کیا تھا کہ دوران تفتیش انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ رضا کارارنہ طور پر خود واپس لوٹے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















