کراچی بارش سےمفلوج، 16 ہلاک

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں شدید بارشوں کے بعد شہری نظام درہم برہم ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں زندگی مفلوج پڑی ہے جبکہ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں پندرہ گھنٹوں سے زیادہ وقت سے بجلی غائب ہے۔
بارش کے دوران کمزور مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے کے نتیجے میں کم از کم سولہ افراد ہلاک ہوگئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 143 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
شدید بارش کے بعد شہر کی بیشتر سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں جبکہ کل رات نو بجے کے قریب پیدا ہونے والا بجلی کا بریک ڈاؤن بھی اب تک دور نہیں ہوسکا ہے جس کے باعث چند علاقوں کے سوا پورے شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
کے ای ایس سی کے حکام بارہا رابطوں کے باوجود بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔
ڈیفنس، باتھ آئی لینڈ، جہانگیر روڈ سمیت کئی علاقوں میں پانی کا ریلا گھروں میں بھی داخل ہوگیا ہے جبکہ کے پی ٹی اور لیاقت آباد کے انڈر پاسز میں بھی پانی بھر گیا ہے۔
شہر میں جا بجا سڑکوں پر کئی گاڑیاں خراب حالت میں کھڑی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث کئی لوگ تمام رات مختلف علاقوں میں پھنسے رہے۔
سٹی گورئمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پمپنگ اسٹیشنز بھی بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے برساتی نالوں کا پانی ابل پڑا ہے اور بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوپارہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کے باعث پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے اور پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
کے ای ایس سی ذرائع کے مطابق جمعہ کی رات واپڈا سے کے ای ایس سی کو بجلی فراہم کرنے والی مین ٹرانسمیشن لائن میں خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کے بعد کے ای ایس سی کا پیداواری اور ترسیل کا نظام بند ہوگیا اور اس کے نتیجے میں پورے شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق بریک ڈاؤن پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
بارش کے بعد مسافر ٹرینوں اور طیاروں کی پروازوں کی آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔






















