اگست سے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت نے آئندہ ماہ یکم اگست سے پیٹرول کی قیمت میں ڈھائی روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں آٹھ پیسے اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عاصم حسین نے اتوار کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے باعث کی جائے گی لیکن پاکستان میں ان مصنوعات پر عائد ٹیکس اور مختلف کمپنیوں کے منافعےاور دیگر اخراجات میں ردو بدل نہیں کیا گیا ہے۔
عاصم حسین کا کہنا تھا کہ اگر اس ماہ کے باقی رہ جانے والے دنوں میں عالمی منڈی میں اچانک اتار چڑھاؤ نہ آیا تو ان کے اعلان کردہ نرخ یکم اگست سے نافذالعمل ہوں گے۔
تقریباً تمام مقامی ٹیلی وژن چینلز پر براہ راست نشر ہونے والی اس کانفرنس میں مشیر پیٹرولیم نے بہت تفصیل کے ساتھ ملک میں تیل کی مختلف مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا فارمولا بیان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فارمولے کی تفصیل سے عوام کو آگاہ کرنا تیل کی قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے چند روز قبل تیل کی قیمتوں سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران ملک میں ان مصنوعات کی قیمتوں کےتعین کے لیے اختیار کی گئی سرکاری پالیسی کو غیر شفاف قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالتی فیصلے ، بعض ججوں کے اس حوالے سے ریمارکس اور عدالت میں زیرسماعت معالات پر بات کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فارمولے کو عوام کے سامنے رکھنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی حکومت یہ کام چوری چھپے نہیں کر رہی ہے۔
ڈاکٹر عاصم نے ان عوامل کی تفصیل بھی بیان کی جو تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں خام تیل کی درآمد، اس کی صفائی، ترسیل، انشورنس، تیل بیچنے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والی کمپنیوں اور ڈیلرز کے منافع اور سرکاری ٹیکس شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشیر پیٹرولیم نے ان اداروں کی ویب سائٹس بھی بتائیں جہاں سے پاکستان کی حکومت تیل کی قیمت کا تعین کرتے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سمیت دیگر متعلقہ اعداد و شمار حاصل کرتی ہے۔
عاصم حسین کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل کے آشکار ہو جانے کے بعد اب کوئی بھی پاکستانی گھر بیٹھے اگلے مہینے کے لیے پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمت کا اندازا لگا سکتا ہے۔
مشیر پیٹرولیم نے ایران سے گیس خریدنے کے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران تک بچھائی جانے والی پائپ لائن سے جو گیس ملک میں آئے گی اس سے چھیالیس سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بجلی کی پیداواری لاگت فرنس تیل سے بننے والی بجلی سے تین ڈالر سے بھی کم ہو گی۔






















