کراچی: بجلی کے ساتھ پانی کے لیے احتجاج

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں سنیچر کو ہونے والی شدید بارش کے بعد گزشتہ دو دن کےدوران بجلی اور پانی سے محروم لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
<link type="page"><caption> بارش کے بعد بجلی غائب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090720_khi_rain_update_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
بوٹ بیسن، لیاقت آباد، لانڈھی، سوک سینٹر، گلشن اقبال، صدر، لائنز ایریا، طارق روڈ اور ائرپورٹ کے قریب شاہراہ فیصل پر پچھلے دو دن سے بجلی کی بندش کے خلاف مشتعل لوگوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کردیے ہیں جس سے ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔
<link type="page"><caption> کراچی بارش سے مفلوج، انتیس ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090719_rain_update.shtml" platform="highweb"/></link>
بعض مقامات پر شہریوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔
دوسری طرف سٹی ناظم مصطفی کمال نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی شہر میں بجلی کے بحران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح سنجیدگی سے لیں۔
شہر کے چالیس فیصد سے زیادہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی اب تک بحال نہیں ہوئی ہے جس کے باعث پینے کے پانی کے بحران نے بھی شدت اختیار کرلی ہے۔
دوسری طرف کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید اسماعیل اور چیف آپریٹنگ آفیسر جان عباس زیدی نے پیر کی سہ پہر ایک نیوز بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کردی گئی ہے اور بیس سے پچیس فیصد علاقے اب بھی متاثر ہیں۔ ان کے بقول متاثرہ علاقوں میں مشتعل لوگوں نے کے ای ایس سی کے عملے پر حملے کیے ہیں جس کی وجہ سے مرمت کے کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافیوں کے اصرار کے باوجود کے ای ایس سی کے افسران نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ شہر کو بجلی کی مکمل فراہمی کب تک ممکن ہو سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فی الوقت وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
دوسری طرف کراچی واٹر بورڈ نے ایک اعلامیے میں خبردار کیا ہے کہ دھابے جی پمپنگ سٹیشن پر بجلی کی سپلائی پچھلے دو دنوں سے بند ہونے کی وجہ سے شہر میں پانی کی سپلائی معطل ہے اور اگلے تین دن تک شہر میں پانی کی قلت برقرار رہ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی بلدیاتی انتظام کے لحاظ سے کئی حصوں میں تقسیم ہے۔ شہر کا تینتیس فیصد علاقہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ٹاؤنز انتظامیہ کے ماتحت ہے جبکہ باقی ماندہ علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، چھ کنٹونمینٹ بورڈز، سائٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کے زیر انتظام ہے۔






















