چوہدری شجاعت اور مشاہد کی ہیٹرک

سید مشاہد حسین
،تصویر کا کیپشنسید مشاہد حسین کو تیسری مدت کے لیے بلامقابلہ مسلم لیگ قائدِ اعظم کا جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف نے چوہدری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین کو بالترتیب بلامقابلہ صدر اور جنرل سکریٹری منتخب کیا ہے۔ پارٹی کے ایک دھڑے نے انتخابات کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کیا۔

سوموار کو اسلام آباد میں مسلم لیگ قاف کے مرکزی دفتر میں پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سکریٹری سید مشاہد حسین نے تیسری مدت کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

مقررہ وقت تک پارٹی کے کسی اور رکن کی جانب سے ان کے مقابلے میں کاغذات جعع نہ کرانے پر مسلم لیگ قاف کے رہنما کامل علی آغا نے چوہدری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین کو تیسری مدت کے لیے بلامقابلہ صدر اور جنرل سکریٹری منتخب ہونے کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے بعد چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ملکی حالات کو سنھبالنا نہ اکیلے فوج، نہ حکومت اور نہ ہی حزب اختلاف کے بس کی بات ہے اس لیے حالات کو بہتر کرنے کے لیے تینوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

انہوں نے اس موقع پر صوبہ بلوچستان کی عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور صوبے کے مسائل کے خاتمے کے حل کی لیے پارٹی کے سکریٹری جنرل مشاہد حسین کی جانب سے مرتب کردہ تجاویز پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ تجاویز سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں مرتب کی گئی تھی۔

چوہدری شجاعت حسین نے صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے کے لیے آئین میں سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے سابق چئرمین سینیٹ وسیم سجاد کی جانب سے سینیٹ میں پیش کردہ قرار داد پر جلد بحث شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ قاف کے ایک دھڑے نے پارٹی کے صدر کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ناراض دھڑے کے سربراہ اور مسلم لیگ قاف کے نائب صدر حامد ناصر چھٹہ کا کہنا ہے کہ پارٹی انتخابات جعلی ہیں۔

حامد ناصر چھٹہ کے ترجمان طارق خان نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انتخابات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر پہلے تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر انتخابات ہوتے ہیں جن کے بعد پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل وجود میں آتی ہے جو پارٹی کے صدر کا انتخاب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے مطابق دو ہزار نو کی مرکزی جنرل کونسل منتخب ہو چکی ہے جب کہ دو ہزار چھ کے بعد پارٹی میں نچلی سطح پر انتخابات ہی نہیں ہو ئے ہیں۔

انہوں نے ناراض اراکین کے دھڑے میں پارٹی کے اراکین پارلیمان اور رہنماؤں کی اکثریت کے شامل ہونے کا دعوئ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آٹھ جولائی کو ہونے والے پارٹی کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور اب اسی سلسلے میں پارٹی کے مرکزی صدر کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سات جولائی کو لاہور میں مسلم لیگ قاف کے ناراض دھڑے کے دو درجن کے قریب مرکزی اور صوبائی رہنماؤں نے جسے مقامی میڈیا نے ہم خیال گروپ کا نام دیا ہے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری برادران پر پارٹی کو اپنی ذاتی جاگیر بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

طارق خان نے کہا کہ پارٹی کے آئین کے مطابق ایک شخص تیسری بار صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پارٹی کے صدر کے انتخاب کو چیف الیشکن کمشنر کے سامنے چیلنج کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی سماعت ستائیس جولائی کو ہے۔ جس کے بعد ناراض اراکین اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف میں دو ہزار آٹھ کےانتخابات کے بعد سے ہی اختلافات شروع ہو گئے تھے۔ مسلم لیگ قاف کے ناراض اراکین کا موقف ہے کہ انتخابات میں پارٹی کی شکست کا سبب چوہدری شجاعت حسین ہیں اس لیے وہ پارٹی قیادت سے علیحدہ ہو جائیں اور پارٹی کا نیا صدر چوہدری برادان کے خاندان سے باہر کا کوئی فرد ہونا چاہیے۔