’مارشل لاء کا راستہ روکیں گے‘

چیف جسٹس
،تصویر کا کیپشن ’ٹکا اقبال کیس میں عدالتی فیصلے کے جراثیم جب تک نظام میں موجود ہیں ملک میں جمہوری ادارے پنپ نہیں سکیں گے۔‘چیف جسٹس
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر دو ہزار سات کے غیر آئینی اقدامات کو جواز فراہم کرنے والے عدالت عظمٰی کے فیصلے کو ختم کیے بغیر ملک میں جمہوریت اور آئینی اداروں کی بنیادیں مضبوط نہیں کی جا سکتیں۔

ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ کے سامنے سندھ ہائیکورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے خلاف دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کے دوران دیےگئے اپنے ریمارکس میں کیا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو آئینی جواز فراہم کرنے والے ٹکا اقبال کیس میں عدالتی فیصلے کے جراثیم جب تک نظام میں موجود رہیں گےملک میں جمہوری ادارے پنپ نہیں سکیں گے اس لیے اس فیصلے کے ناپاک اثرات سے ملک، آئین اور جمہوریت کو بچانا ہوگا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں قائم موجودہ نظام کلی طور پر آئینی ہے اور عدالت کے اس فیصلے کے ختم ہو جانے سے کسی ادارے فرد یا نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ ’اٹھارہ فروری کے انتخابات آئین کے تحت ہوئے اس لیے اس کے تحت بننے والے ریاستی ادارے، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں، صدر، وزیراعظم اور دیگر ریاستی ڈھانچے کی حیثیت بالکل آئینی ہے اورانہیں ٹکا اقبال کیس کے ختم ہونے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘

جسٹس افتخار نے کہا کہ وہ موجودہ پارلیمنٹ کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے ابھی تک جنرل مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کی توثیق نہیں کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ایسا بھی ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اس پٹیشن کی سماعت کے لیے اتنا بڑا بینچ بنانے کا کیا مقصد ہے سوائے اس کے کہ ’ہم اس ملک پر روز روز لگنے والے مارشل لا کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔‘

سندھ ہائیکورٹ کے دو معزول ججوں کے وکیل رشید اے رضوی نے جب اپنے مؤکلوں کے حق میں تکنیکی دلائل دینے شروع کیے تو چیف جسٹس اور بینچ میں شامل دیگر ججوں نے ان سے کہا کہ وہ اپنے مؤکلوں کے کردار اور کیریئر کی وضاحت کے بجائے تین نومبر کے اقدامات کو دلائل کا حصہ بنائیں کیونکہ اصل خرابی کی جڑ اس روز کے غیر آئینی اقدامات ہیں۔

جسٹس خلیل رمدے نے کہا کہ تین نومبر کے روز ملک میں ایسی کوئی صورتحال نہیں تھی جس پر اتنے سنگین اقدامات لیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران اس سے زیادہ سنگین صورتحال کا ملک کو سامنا ہے لیکن ابھی تو کسی نے ملک میں ایمرجنسی نہیں لگائی۔ ’سوات آپریشن کے دوران اور اس سے پہلے ملک کے حالات جتنے خراب تھے اتنے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے لیکن تمام ریاستی ادارے پھر بھی اپنا کام کرتے رہے لیکن کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔‘

جسٹس شاہد صدیقی نے کہا کہ جس قسم کے الزامات کے تحت ایمرجنسی لگائی گئی اس کی وجہ سے تو حکومت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن نزلہ عدلیہ پر گرایا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو اللہ نے کرم کیا اور پاکستانی عوام اٹھ کھڑے ہوئے ورنہ ڈکٹیٹر ججوں کے ساتھ نجانے اور کیا سلوک کرتے۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے فل بینچ کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ تو بہت پہلے شروع ہو گیا تھا جب صدر پاکستان کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے بینچ کو ملیشیا میں ججوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کر کے ڈرانا شروع کر دیا تھا۔جہاں ڈکٹیٹر کی مرضی کے خلاف فیصلہ دینے والے پانچ ججز کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ سے دریافت کیا کہ تین نومبر کے اقدامات کے بارے میں موجودہ حکومت کا مؤقف کیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکمران جماعت نے تین نومبر کے اقدامات کی مخالفت کی اور اب بھی کرتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر عدالت کے اس فیصلے کے بارے میں موجودہ حکومت کا کیا مؤقف ہے جس کے ذریعے ٹکا اقبال کیس میں عدالت نے جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی۔اٹارنی جنرل نے اس بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنے سے احتراز کیا تو چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ وہ وقفے کے بعد حکومت سے معلوم کر کے اس کا مؤقف عدالت میں پیش کریں کیونکہ اگر حکومت بھی اس عدالتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی تو اس کا وجود ہی ختم ہو جائےگا۔

وقفے کے بعد اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اعلیٰ سرکاری حکام سے رابطہ نہیں کر سکے لہذا انہیں ایک دن کی مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس میں کہا کہ اگر موجودہ حکومت تین نومبر کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتی تو انہیں جواز فراہم کرنے والے عدالتی فیصلے کو کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کے دوسرے وکیل حامد خان اور اکرم شیخ کو ایک ایک دن سننے کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ جمعے کے روز تک سنایا جائے گا۔