ہنزہ: سیاح کدھر گئے

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ہنزہ
- وقت اشاعت
پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ایک خوبصورت وادی ہنزہ جو برف پوش چوٹیوں اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ اس وادی کے دل فریب نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے موسم گرما کے آغاز سے ہی اندرون ملک کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے ۔
رواں موسم گرما کے سیزن کے دوران پر امن، اعتدال پسند اور مہذب لوگوں کی وادی ہنزہ کے بازاروں میں جہاں دوکان دار پریشان بیٹھے دکھائی دیتے ہیں وہیں ہوٹلوں کے مالکان سیاحوں کے منتظر نظر آتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق رواں سال وادی میں سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی آئی ہے اور ایک اندازے کے مطابق تقریباً اسی فیصد کم سیاحوں نے وادی کا رخ کیا ہے ۔
ہنزہ کے مرکزی بازار کریم آباد میں قالین کا کاروبار کرنے والے دیدار علی کے مطابق رواں سال غیر ملکی سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسر ی جانب اندرون ملک سے بھی سیاحوں نے معاشی مشکلات اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر شمالی علاقوں کا رخ کرنے سےگریز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں سیاحوں کی تعداد کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ چار روز سے دوکان میں کوئی گاہک نہیں آیا ہے۔ جبکہ گذشتہ سیزن کے دوران گاہکوں کا کافی رش رہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آئندہ دو تین سال تک حالات جوں کے توں رہیں گے اس لیے حکومت پاکستان یہاں سے چند گھنٹے کی مسافت پر واقع چین کے شہر کاشغر سے غیر ملکی اور چینی سیاحوں کو ویزے جاری کرے تاکہ اس علاقے میں لوگوں کی معاشی مشکلات کو قدرے کم کیا جا سکے۔
ایک اور دوکان دار شاہ زویل جو روایتی شالیں ، ٹوپیاں اور دیگر مصنوعات فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں، نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ہم دوکان میں رکھی مصنوعات کواب ان قیمتوں پر فروخت کرنے کو بھی تیار ہیں جن کا کبھی ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال کا براہ راست اثر ہم پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے بیرون ممالک میں پاکستان کا جو امیج بن گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اگر اب سے بھی کوشش کی جائے تو ملک کے بارے میں شدت پسندی کے تاثر کو دور کرنے میں کم از کم دس سال لگیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ رواں سیزن کے دوران کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بعض دوکان داروں نے اپنا کاروبار بند کر کے ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ وادی کے سخت موسم سرما میں گزر بسر کرنے کے لیے رقم کا بندوبست کیا جا سکے۔
واضح ہے کہ ہنزہ میں موسم سرما انتہائی شدید ہوتا ہے اور برف باری کی وجہ معمولات زندگی جاری رکھنا کافی دشوار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ موسم گرما میں محنت مزدروی کرکے سردیاں گزارنے کا بندوبست کرتے ہیں۔
ہنزہ میں گذشتہ بارہ سال سے ہوٹل چلانے والے شیر باز میڈیا سے کافی نالاں نظر آتے تھے ۔ انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر نشر کی جانے والی اکثر رپورٹس میں قبائلی علاقو ں اور مالاکنڈ ڈویژن کو شمالی علاقوں سے منسلک کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شمالی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس کی وجہ سے اندرون ملک بھی لوگ شمالی علاقہ جات کوقبائلی علاقوں کا حصہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرا غیر ملکی سیاح میڈیا کی رپورٹس کو دیکھنے کے بعد یہاں آنے سے گریز کرتے ہیں۔
گائیڈ محمود علی نے بتایا کہ گذشتہ سال ہر دوسرے تیسرے روز انہیں کوئی نہ کوئی سیاح مل جاتا تھا لیکن موجودہ سال مالاکنڈ کے حالات کی وجہ سے لوگوں نے اس طرف کا رخ نہیں کیا اور ہفتوں کے بعد کوئی سیاح نظر آتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ’ان کے ایک رشتہ دار ٹریکنگ کا سامان غیر ملکی سیاحوں کو یومیہ کرایہ پر دینے کی دوکان چلاتے ہیں لیکن سیاح نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دوکان دن میں زیادہ تر بند رہتی ہے اور وہ فارغ گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔‘
ہنزہ کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے اور چین کے ساتھ خشکی کے راستے تجارت کے واحد راستے قراقرم ہائی وے کی تعمیر جاری ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد سے ہنزہ تک سفر اب معمول سے زیادہ وقت میں طے ہوتا ہے لیکن ہنزہ کے مقامی لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر کی وجہ سے سیاح کم نہیں آئے بلکہ اصل مسئلہ مالاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن اور مجموعی طور پر ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ملکی حالات کی خرابی کی وجہ سے وادی ہنزہ میں شدت پسندوں کی ممکنہ آمدو رفت کو روکنے کے لیے گلگت سے ہنزہ تک شاہراہ ریشم ( قراقرم) پر قائم پولیس کی متعدد چیک پوسٹوں پر اندرو ن اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے قومی شناختی کارڈ اور دیگر ضروری معلومات کا اندراج کروانا لازمی ہے۔
راکا پوشی ، لیڈی فنگر ، گولڈن اور دیران جیسی بلند و بالا برف پوش چوٹیوں سےگھری سرزمین ہنزہ کی خوبصوتی دیکھنے کے لائق ہے لیکن حالیہ دنوں وادی کے پریشان حال لوگوں کو دیکھ کر یہ مزہ کچھ کِرکِرا ہو جاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ وادی میں لوگوں کی معاشی مشکلات کا شدت پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس کی مثال صوبہ سرحد کا ضلع سوات ہے ۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کرتے ہوئے میڈیا پر ان علاقوں میں سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے تشہیری مہم چلائی جائے۔






















