اسے کیا سمجھا جا سکتا ہے؟

- مصنف, ڈیوڈ لوئن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
میجر ریٹائرڈ طاہر صادق رواں سال اکتوبر میں ملے جلے تاثرات کے ساتھ ضلعی ناظم کا دفتر خالی کر دیں گے۔ طاہر صادق آٹھ سال تک صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے ناظم رہے اور اس عرصے کے دوران انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں مقامی سطح کے چھوٹے مسائل، اختلافات اور دیگرمعاملات کو حل کیا۔
انہوں نے کہا آٹھ سال واقعی ایک طویل عرصہ تھا اور اس کے دوران جن لوگوں کے معاملات حل کیے۔ وہ لوگ اب انہیں دعاؤں میں بھی یاد رکھیں گے۔
طاہر صادق دو بار اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تیسری بار ناظم کے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں لیکن وہ مقامی حکومتوں کے موجودہ بلدیاتی نظام کو بچانے والی قومی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں ۔
تحریک میں حصہ لینے والے ناظمین رواں سال اکتوبر میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اس نظام سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس کے بعد نئے انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ضلع اٹک دریائے سندھ پر واقع ایک تاریخی مقام ہے جہاں سکندرِ اعظم کے زمانے سے برصغیر کی جانب آنے والے افغانستان کا صحرائی علاقہ اور پہاڑ عبور کرنے کے بعد اپنی منزل کی جانب بڑھنے سے پہلے پڑاؤ ڈالتے تھے۔
لیکن صوبہ سرحد کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے کے لیے اس شہر سے دور تعمیر کی جانے والی موٹر وے کے بعد یہ تاریخی شہر اپنی اہمیت کھوتا ہوا نظر آتا ہے۔
طاہر صادق کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کی وجہ سے دیہی وٹروں کو طاقت کے ایوانوں تک رسائی کا موقع ملا ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کے سیاسی حکمران ان سے بہت دور لاہور یا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہتے تھے۔
انہوں کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام کی وجہ سے مقامی لوگوں کے بہت سے مسائل جن میں آپس کے جھگڑے، اختلافات ، چھوٹے مقامی مسائل کے ساتھ ترقیاتی منصوبے جن میں سڑکوں اور سکولوں کی جگہ کا تعین اور تعمیر وغیرہ شامل ہے مقامی سطح پر ہی حل ہوجاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دورے اقتدار میں عوامی پارک، ہسپتال، کھیل کی سہولیات، دیہی علاقوں کے پل، آٹھ ڈیموں کی تعمیر اور تین سو پچھہتر سکولوں کی بحالی شامل ہے۔
میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے مطابق مقامی حکومتوں کی وجہ سے دیہی آبادی کے نمائندوں کو انتخابات میں حصہ لیے کا موقع ملتا ہے جو ارد گرد کے دیہات سے اکٹھے ہو کر اپنے مسائل پر بات چیت کرتے اور ضلعی ناطم کو ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں خواتین کو نمایاں نمائندگی حاصل ہے اور ان کے لیے ایک تہائی سیٹیں مخصوص ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو آئین کو درست حالت میں لانے کی کوشش میں ہے۔ جہاں فوج نے اقتدار میں رہتے ہوئے جمہوریت کو کمزور کیا لیکن انہوں نے طنزاً کہا کہ یہ فوجی آمر ہی ہیں جنہوں نے دیہی علاقوں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کیے۔
خیال رہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام دو ہزار ایک میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروایا تھا۔ اس سے پہلے اس طرح کا نظام سابق فوج حکمران جنرل ضیاء الحق اور جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں بھی رائج کیا گیا تھا۔
طاہر صادق نے بتایا کہ گذشتہ سال فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد جب سے جمہوریت بحال ہوئی ہے اس وقت سے ضلع اٹک میں ایک بھی سکول کو بحال نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے ناظمین کے فنڈز روک رکھے ہیں۔
وزیر بلدیات جسٹس ریٹائرڈ عبدل رزاق تھیم اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ موجودہ بلدیاتی نظام کو کسی بہتری کے لیے منسوخ نہیں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات ایک عرصے کے بعد ہوں گے لیکن انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ملک میں چاروں صوبائی، قومی اسمبلی اور صدر کے انتحابات جمہوریت کے لیے کافی تھے۔
جسٹس ریٹائرڈ تھیم نے کہا موجودہ حالات میں جب ملک کو طالبان سے خطرہ ہے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرنا بہت مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں جہاں سکیورٹی فورسز طالبان سے کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی کر رہی ہیں صرف وہیں انتخابات کروانا خطرناک ثابت نہیں ہو سکتا ہے بلکہ چاروں صوبوں میں ایک ایسے وقت میں انتخابات کیسے منعقد کیے جا سکتے ہیں جب وہاں طالبان بہت مصروف ہیں اور چاروں صوبے ان کی گرفت میں ہیں اور حکومتیں ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مصروف ہیں ۔
جسٹس ریٹائرڈ نے کہا کہ رواں سال اکتوبر میں ناظمین کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ غیر منتخب حکام بن جائیں گے جو مرکزی حکومت کے ماتحت کام کریں گے۔
ضلع اٹک کے ناظم طاہر صادق نے پنجاب کے ایک طاقت ور سیاسی خاندان چوہدری برادران میں شادی کر رکھی ہے۔ چوہدری برادران اس وقت پنجاب اور وفاق میں حکمران جماعتوں کے سیاسی حریف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو انتخابات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ انتخابات کو ملتوی کرنے سے۔ انہوں نے کہا انتخابات منسوخ ہونے سے طاقت کا توازن مرکز کے حق میں ہو جائے گا جس کی وجہ سے مقامی سطح پر احتساب کم ہو جائے گا۔
طاہر صادق کے مطابق ناظمین کے نظام کو ختم کرنے سے لوگ تھوڑا بہت احتجاج کر سکتے ہیں جو پہلے ہی دہشت گردی کے خدشات اور موسم گرما کے دوران بڑے پیمانے پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں۔
ایک نمایاں سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ پیچھے کی جانب قدم ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملکی پالسیوں پر عوام کو اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں ہے۔
رسو ل بخش رئیس کے مطابق ا س وجہ سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جنہوں نے یونیفام پہن رکھی تھی اس کے بدلے میں اب سویلین آمر آ گئے ہیں ۔






















