مشرف کا مستقبل، فیصلہ عدالت کرے گی

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان اور افغانستان کے بارے میں خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ سابقِ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقدامات کا کیا مستقبل ہے یہ عدلیہ کا معاملہ ہے کہ وہ اسے کیسے طے کرتی ہے۔
انہوں نے یہ بات بدھ کے روز اسلام آباد میں اعلٰی سیاسی و فوجی قیادت سے علاقائی اور اقتصادی معاملات پر مذاکرات کے بعد وزیرِ مملکت برائے خزانہ و اقتصادی امور حنا ربانی کھر کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہی۔
رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ امریکہ، پاکستان اور بھارت دہشت گردی کی شکل میں ایک مشترکہ دشمن کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان جن خطوط پر بھی بات چیت کریں گے، امریکہ اس عمل کی حمایت کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالات گزشتہ چار ماہ پہلے کے مقابلے میں خاصے بہتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر زرداری اور میاں نواز شریف کے مابین اہم امور پر ہم آہنگی ایک حوصلہ افزا خبر ہے اور یہ سب جمہوریت کا کرشمہ ہے جس کی اوباما انتظامیہ بھرپور حمایت کرتی ہے۔‘
رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ اقتصادی اور دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی ہرممکن مدد کرے گا۔کیری لوگر قانون کے تحت پاکستان کے لیے سالانہ ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد بھی اسی تعاون کا حصہ ہے۔اس کے علاوہ، ان کے مطابق، امریکہ فوری طور پر پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سو پینسٹھ ملین ڈالر کی امداد بھی دے رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے۔ لیکن ان کے مطابق فی الحال وہ اس بارے میں کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔


















