کراچی: چار دن بعد بھی بجلی غائب

بارش
،تصویر کا کیپشنکراچی میں بجلی کی طویل بندش کے بعد مشتعل دکانداروں نے احتجاجاً ٹائر جلائے
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی میں گزشتہ سینیچر کو ہونے والی بارش کو بہّتر گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال نہیں کی جا سکی ہے جبکہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں صدر مملکت یا وزیراعظم کی جانب سے اظہار وجوہ کا کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔

<span xml:lang="er"><paragraph>بدھ کی دوپہر کے ای ایس سی ہیڈ آفس میں نیوز کانفرنس کے دوران کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفسر جان عباس زیدی نے کہا کہ <span xml:lang="er"> بدھ کو بھی کراچی کےگیارہ سو میں سے تینتیس فیڈرز اب بھی کام نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔</span></paragraph><paragraph><span xml:lang="er"> ان کے بقول متاثرہ فیڈرز پر کام جاری ہے اور جلد ہی وہاں بجلی بحال کردی جائے گی۔</span></paragraph><paragraph>اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے بارے میں سوال کے جواب میں جان عباس زیدی نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کے بارے میں ان کی کمپنی کو نیپرا یعنی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نوٹس ضرور ملا ہے تاہم وہ معمول کا نوٹس ہے۔</paragraph> <pullOut><quote><quoteText>ہماری توجہ اس وقت بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ہے اور جو مسائل کئی دہائیوں سے جمع ہوچکے ہیں انہیں حل کرنے کی طرف ہے اور اس میں ظاہر ہے وقت درکار ہوگا۔</quoteText><quoteSource>جان عباس زیدی</quoteSource></quote></pullOut> <paragraph>یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے کے ای ایس سی کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی نہ بنانے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ کراچی میں حالیہ دنوں میں بجلی کے بحران کا نوٹس لیتے ہوئے صدر آصف علی زردای اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اسلام آباد میں کے ای ایس سی کو نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہونے پر انتظامی اختیارات واپس لینے سمیت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔</paragraph><paragraph>کے ای ایس سی کے جان عباس زیدی نے کہا کہ انہیں صدر یا وزیراعظم کی جانب سے اظہار وجوہ کا نوٹس تو نہیں ملا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یقیناً صدر اور وزیراعظم کو کراچی میں بجلی کی صورتحال پر تشویش ہے کیونکہ کراچی ایک اہم شہر ہے۔ ان کے بقول ’ہماری توجہ اس وقت بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ہے اور جو مسائل کئی دہائیوں سے جمع ہوچکے ہیں انہیں حل کرنے کی طرف ہے اور اس میں ظاہر ہے وقت درکار ہوگا‘۔</paragraph><paragraph>انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے چیف ایگزیٹو افسر نوید اسماعیل، سندھ کے گورنر اور وزیراعلٰی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ ان کو معلومات فراہم کررہے ہیں کہ اس شدید بارش کے بعد ایسی کیا وجوہات تھیں جن کے اثرات ہمارے بوسیدہ انفرا اسٹرکچر پر آئے ہیں اور اس وقت ہم اپنے نظام کو بحال کرنے میں وقت صرف کر رہے ہیں‘۔</paragraph> <image id="d7e387"/> <paragraph><span xml:lang="er"/>جان عباس زیدی نے کہا کہ ان کی کمپنی محکمۂ موسمیات سے مسلسل رابطے میں ہے اور اگلے چند روز میں متوقع بارشوں میں ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول حالیہ بارشوں کے نتیجے میں بجلی کے نظام میں جہاں جہاں خرابیاں دور کی گئیں ہیں اب کم از کم وہاں دوبارہ وہ خرابیاں پیدا نہیں ہوں گی اور مرمت شدہ نظام پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔</paragraph><paragraph>یاد رہے کہ گذشتہ سنیچر کو موسلادھار بارش کے بعد کراچی میں بجلی کا نظام بیٹھ گیا تھا اور شہر رات بھر اندھیرے میں ڈوبا رہا۔ کے ای ایس سی کی انتظامیہ بارش کے بعد بجلی کے نظام کو مکمل بحال کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے پیر کو کراچی کے تیس مختلف علاقوں میں کے ای ایس سی انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کیے گئے جہاں لوگوں نے ٹائر جلائے اور نعرے بازی کی۔ کے ای ایس سی کی انتظامیہ بارش کے پانچویں روز یعنی بدھ کو بھی تینتیس فیڈرز کی خرابی دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔</paragraph></span>

حکومت پاکستان نے منگل کو کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) کو بجلی کی متواتر فراہمی یقینی نہ بنانے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہونے پر انتظامی اختیارات واپس لینے سمیت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ملاقات کے بعد صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بتایا کہ صدر مملکت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کیلیے فوری اور مناسب اقدامات اٹھائے۔