بجلی کی قیمت میں معقول اضافے کی اجازت

بجلی
،تصویر کا کیپشنبجلی کی موجودہ قیمتوں میں بائیس فیصد اضافے کا امکان ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو روکنے کے لیے جاری کردہ اپنا عبوری حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معقول حد کے اندر رہتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

جمعرات کو عدالت کے تین رکنی بنچ نے حکم امتناعی بجلی کی قیمت کا تعین کرنے والے ادارے نیپرا کے وکیل کے اس بیان کے بعد واپس لیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فی الحال حکومت کا بجلی پر عائد سبسڈی واپس لینے کا ارادہ نہیں ہے۔

حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے بنچ کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ’عدالت سرکاری محکموں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی اور بجلی کے نرخ مقررہ کرنا حکومتی اداروں کا استحقاق ہے‘۔

تاہم انہوں نے ان اداروں کو تنبیہ کی کہ معقول حد سے زیادہ بجلی نرخوں میں اضافے کی صورت میں عدالت مداخلت کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اپنے پیداواری اور ترسیل کے اخراجات کے پیش نظر قیمتوں میں معقول حد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے لیکن غیر ضروری بوجھ صارفین پر ڈالنے سے گریز کیا جائے‘۔

چیف جسٹس نے نیپرا کو ہدایت کی کہ بجلی کی قیمت کے تعین کا فارمولا ترتیب دیا جائے جس میں سرکاری اخراجات کے ساتھ ساتھ عوامی بہبود کا بھی خیال رکھا جائے اور ’اس فارمولے سے عدالت کو بھی آگاہ کیا جائے تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ کہیں بجلی کی قیمت طےکرنے کا یہ فارمولا ظالمانہ تو نہیں ہے‘۔

عدالت نے بجلی کی قیمت طے کرنے کے دوران زیرغور لائےجانے والے مختلف عوامل کے بارے میں وزارت خزانہ اور پانی بجلی سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت انتیس جولائی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ عالمی بنک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت حکومت نے بجلی کے نرخوں پر صارفین کو دی جانے والی رعائیتی قیمت یا سبسڈی اسی مالی سال کے دوران واپس لینے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے بعد بجلی کی موجود قیمتوں میں بائیس فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔