’ہم سے بھی براہِ راست رابطے میں رہیں‘

جنرل شجاع پاشا
،تصویر کا کیپشناخبار کے مطابق ملاقات جنرل شجاع پاشا کی ایماء پرہی ہوئی تھی
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
  • وقت اشاعت

بھارت کے انگریزی روزنامہ ’ہندو‘ نے ایک خصوصی رپورٹ میں دعوٰی کیا ہے کہ شرم الشیخ میں ’نام‘ کے اجلاس کے موقع پر منموہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی کی ملاقات سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ نے یہ تجویز رکھی تھی کہ ہندوستان سویلین حکومت سے بات چیت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی سے بھی براہ راست رابطے میں رہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق یہ تجویز تین جولائی کو راولپنڈی میں اس وقت پیش کی گئی تھی جب جنرل شجاع پاشا نےاسلام آباد ہائی کمیشن میں مامور ہندوستانی بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے نمائندوں کو بات چیت کے لیے اپنے دفتر مدعو کیا تھا۔ اخبار کے مطابق جنرل پاشا کی ایماء پر ہونے والی یہ ملاقات ’انتہائی خوشگوار‘ ماحول میں ہوئی اور بات چیت کے دوران ممبئی پر حملوں یا ان کی تفتیش کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ملاقات کے دوران جنرل پاشا نے اعتراف کیا کہ انڈیا پالیسی وضع کرنےکے عمل میں دفتر خارجہ کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی بھی شریک ہے۔ اور انہوں نے ا شارتاً کہا کہ ہندوستان ان تینوں اداروں سے براہ راست رابطے میں رہے‘۔ لیکن اخبار کے مطابق جب ہندوستانی وزارت خارجہ نے دلی میں مامور پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک سے جنرل پاشا کی تجویز کے بارے میں رابطہ کیا تو انہیں اس ملاقات کا علم تک نہیں تھا جس پر ’وزارتِ خارجہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید پاکستانی وزارت خارجہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا‘۔ رپورٹ کے مطابق شاہد ملک نے بعد میں اخبار سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق تو کی لیکن ملاقات میں کیا بات ہوئی، اس پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بھی اس معاملے سے لاعلمی ظاہر کی جبکہ اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمیشن نے’اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا‘۔

جمعرات کو اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط سے جب بی بی سی کے نمائندے نے اس مبینہ تجویز پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فوج کے ترجمان سے رابطہ کرنا ہی بہتر ہوگا جبکہ پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرنل بشیر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کے پاس ایسی کسی ملاقات کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔

بھارتی اخبار نے بھی ہندوستانی وزارت خارجہ میں اعلی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ اس تجویز میں عملی دشواریاں ہیں اور دونوں ملکوں میں اقتدار کا نظام اتنا مختلف ہے کہ ان کا موازنہ ممکن نہیں۔