نیٹو سپلائر لاپتہ، ٹینکر مالکان ہڑتال پر

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوجوں کو پاکستان کے راستے تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ٹھیکیدار شیر علی مینگل کی پراسرار گمشدگی کے خلاف کراچی میں آئل ٹینکرز کے مالکان نے ہڑتال کردی ہے جس کے نتیجے میں کراچی سے ملک کے دوسرے حصوں میں تیل کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل نجی شعبے میں چلنے والی بجلی گھروں کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے اور ہڑتال کی وجہ سے تیل کی فراہمی معطل ہونے کے باعث بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
یہ ہڑتال اس دن شروع ہوئی ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کراچی کا دورہ کررہے ہیں۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق ساٹھ سالہ شیر علی مینگل کو پیر کے روز کراچی ائرپورٹ سے ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں اس وقت اغواء کر لیا گیا تھا جب وہ اسلام آباد سے طیارے کے ذریعے کراچی پہنچے تھے۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چئرمین گل محمد آفریدی کا کہنا ہے کہ شیر علی مینگل کی بازیابی کے لیے ان کی تنظیم نے حکومت کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو جمعرات کی شام ختم ہوگئی جس کے بعد آئل ٹینکرز کے مالکان اپنے اعلان کے مطابق غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ شیر علی مینگل کو اغواء کرنے والے جن گاڑیوں میں سوار تھے ان پر سرکاری نمبر پلیٹیں نصب تھیں۔
ادھر ہڑتال کے باعث کراچی کے علاقے کیماڑی میں واقع تیل فراہم کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت نجی کمپنیوں کے ڈپوؤں سے کراچی شہر سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں تیل کی سپلائی بند ہوگئی ہے اور کیماڑی اور شیریں جناح کالونی کلفٹن کے علاقے میں سیکڑوں آئل ٹینکرز احتجاجاً کھڑے کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہورہی ہے۔
گل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر شیر علی مینگل کو فوری طور پر بازیاب نہیں کرایا گیا تو ہڑتال کا دائرہ ملک کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے گا۔ ان کے مطابق ’آج یہ پوزیشن ہے کہ آئل انسٹالیشن ایریا میں ٹینکر کھڑے کر دیے گئے ہیں اور تمام کام بند ہے اور اگر انتظامیہ نے اس پر ہوش کے ناخن نہیں لیے تو ہوسکتا ہے کہ پورے ملک میں جو باقی ڈپو ہیں پنجاب، کوئٹہ اور سرحد میں، وہاں بھی کام رک جائے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ شیر علی مینگل کے اغواء میں شدت پسندوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ گل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ انہیں ائرپورٹ کی حدود اغواء کیا گیا ہے اور اغواء کرنے والے سرکاری گاڑیوں میں سوار تھے جن کے نمبر بھی انتظامیہ کو دیے گئے ہیں۔ اگر ان پر کوئی کیس یا کوئی اور مسئلہ ہے تو حکومت صاف صاف بتادے۔ جب ایک بندہ بھاگ نہیں رہا یا چھپا ہوا نہیں ہے اور ایک بڑا بزنس مین ہے جس کا کروڑوں میں بزنس جارہا ہے تو اسے اس طرح بیوی بچوں کے سامنے سے اٹھاکر غائب کردینا تو کوئی طریقہ نہیں ہے‘۔
اس معاملے کے بارے میں کراچی پولیس کے اعلٰی حکام سے رابطہ کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں جو کامیاب نہ ہو سکیں۔






















