سوات، سکول کھولنے کا اعلان

سوات کے زیادہ تر طلبہ و طالبات اور اساتذہ سوات سے باہر مقیم ہیں
،تصویر کا کیپشنسوات کے زیادہ تر طلبہ و طالبات اور اساتذہ سوات سے باہر مقیم ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کی حکومت نے ضلع سوات میں فوجی کارروائی کی وجہ سے بند ہونے والے تمام سکولوں کو یکم اگست سے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف مینگورہ میں جمعہ کو مقامی لوگوں کو ایک شخص کی لاش ملی ہے جس کے بارے خیال ہے کہ وہ ایک طالبان کمانڈر تھا۔

صوبائی وزراء وجد علی خان اور قاضی اسد نے جمعہ کو مینگورہ کے دورے کے موقع پر اعلان کیا کہ ضلع سوات کے تعلیمی ادارے یکم اگست سے کھل جائیں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قاضی اسد کا کہنا تھا کہ حکومت سوات میں تباہ ہونے والے تعلیمی اداروں کی تعمیرنو اور بحالی پر ساڑھے آٹھ ارب روپے خرچ کرے گی۔

سوات کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے فوجی کارروائی سےچند دن پہلے تین مئی کو اس وقت بند ہوئے تھے جب مینگورہ میں کرفیو نفاذ کیا گیا تھا۔ حال ہی میں سوات واپس لوٹنے والی ایک خاتون ٹیچر نے سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی اعلان کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات لوٹتے ہی بچوں کے والدین سکولوں کو کھولے جانے کے حوالے سے روزانہ رابطے کر رہے ہیں۔ ان کے بقول والدین نے ان سے کہا ہے کہ اگر وہ سکول جلدی نہیں کھولنا چاہتے تو وہ بچوں کو کہیں اور داخل کرنے پر غور کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت زیادہ تر طلبہ و طالبات اور اساتذہ سوات سے باہر مقیم ہیں اور ممکن ہے کہ یکم اگست سے سکولوں میں باقاعدہ درس و تدریس شروع نہ ہوسکے البتہ بقول ان کے جنگ کے خوف سے بچوں کو نکالنے کے لیے یہ ایک بہترین اقدام ہے۔

سکیورٹی کے بارے میں خاتون ٹیچر کا کہنا تھا کہ اس وقت مینگورہ فوج کے کنٹرول میں ہے اور اگر وہ چاہیں تو تعلیمی اداروں کی سکیورٹی یقینی بناسکتی ہے۔

دوسری طرف طالبان جنگجو سمجھے جانے والے افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں سرعام پھینکے جانے کا تیسرا واقعہ پیش آیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر سمجھے جانے والے تختہ بیدار عرف غازی بابا کی لاش جمعہ کی صبح ملی ہے۔ ان کے بقول مبینہ کمانڈر کوگولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ مقتول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام پورہ کے علاقے کے کمانڈر تھے اور اس سے چند دن قبل سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو پا رہی ہے۔

اس سے چند دن قبل مینگورہ اور درگئی میں بھی دو الگ الگ واقعات میں طالبان جنگجو سمجھے جانے والے دو افراد کی لاشیں سرعام ملی تھیں۔

ادھر سوات امن کمیٹی کے سربراہ انعام الرحمن کے بھائی نے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نےانہیں اپنی تحویل میں لیا ہے۔

انعام الرحمن کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر اکرام نے سوات سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ پیر کی رات کو وہ گھر پر تھے کہ سکیورٹی فورسز کے چند اہلکار آئے اور ان کے بھائی کو مذاکرات کے بہانے اپنے ساتھ لےگئے۔

ان کے مطابق ’ہم نے پہلے یہی سوچا کہ امن کمیٹی کے سربراہ ہونے کے ناطے انہیں امن و امان کے حوالے سے بات چیت کے لیے بلایا گیا ہے لیکن تین دن گزرنے کے بعد جب وہ واپس نہیں آئے تو ہم نے حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ان کی حراست میں ہیں۔‘

ڈاکٹر اکرام کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں فوجی حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ حراست میں نہیں بلکہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انہیں اعلی حکام نے حکم دیا ہے کہ انہیں حفاظتی تحویل میں رکھا جائے۔ اس سلسلے میں فوجی حکام سے رابط کیا گیا جنہوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے احتراز کیا۔

سید انعام الرحن پچھلی بار ہونے والی فوجی کارروائی میں انتہائی فعال رہے تھے اور انہوں نے کئی مواقعوں پر طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مذاکرات کار کے طور پر بھی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مولانا فضل اللہ کے قریبی لوگوں میں سے ہیں۔ تاہم ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ امن کی خاطر فعال تھے اور سوات کے سیاسی لوگ ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر انہیں طالبان حامی ظاہر کر کے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔