کوئٹہ میں ایک اور ’ٹارگٹ کلنگ‘

سیکورٹی فورسز نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے الزام میں بلوچ لیبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے
،تصویر کا کیپشنسیکورٹی فورسز نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے الزام میں بلوچ لیبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر آبادکار افراد کی ٹارگٹ کلنک کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور سنیچر کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مشروبات کمپنی کا منیجر ہلاک اور اس کا ساتھی زخمی ہوگیا ہے۔

دوسری جانب کل رات سریاب میں فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں کالج پر وفیسر کی ہلاکت کے خلاف سنیچر کو بلوچستان کے تمام کالجز بند رہے۔

فائرنگ کا واقعہ سنیچر کی صبح اس وقت پیش آیا جب مشرقی بائی پاس پر واقع مشروبات بنانے والے ایک کار خانے کے منیجر محمد طاہر میمن اور ان کا اکاونٹنٹ علی محمد اپنی کار میں کارخانے سے شہر کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں جب ایک سپیڈ بریکر پر ان کی کار آہستہ ہوئی تو پہلے سے تعاقب میں لگے ہوئے دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں محمد طاہر موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ محمد علی کو شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال کوئٹہ لایا گیا جہاں ان کی حالت نازک ہے۔

ایس پی سریاب محمد خالد نے سول ہسپتال میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقع کو بھی ٹارگٹ کلنگ قرار دیا اور بتایا کہ محمد طاہر میمن سکھر کا رہائشی تھا جبکہ محمد علی کا تعلق کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج کر کے نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی بلوچ مزاحمت کاروں کی کسی گروپ نے تاحال ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ہزار ہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے قتل کے اس واقعے پر احتجاج بھی کیا ہے اور صوبائی حکومت سے آبادکاروں اور ہزارہ برادری کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ رات کو سریاب ہی میں ڈگری کالج کوئٹہ میں کیمسٹری کے پروفیسر محمد سرور کی ٹارگٹ کلنگ کے تحت قتل کے خلاف بلوچستان لیکچرار اینڈ پروفیسر ایسوسی ایشن کی اپیل پر آج صوبہ بھر میں تمام کالجز احتجاجاً بند رہے اور کالجز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔

محمد سرور کو رات اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ سریاب مل ہائی سکول کے پرنسپل حاجی محمد محسن کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد واپس گھر آئے تھے۔ حاجی محمد محسن کو پرسوں صبح گھر سے سکول جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ شاہد نظام درانی نے کوئٹہ شہر اورگرد و نواح میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ماہ سیکورٹی فورسز نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے الزام میں بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد اور بلوچ لیبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حالیہ واقعات اس کا ردعمل ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود سریاب، ہدہ اور دیگر علاقوں میں نہ صرف فرنٹیئر کور کو مزید متحرک کیا جارہا ہے بلکہ پولیس کی نئی چوکیوں کی تعمیر کے ساتھ پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔