ممبئی حملہ: کیس کی سماعت ملتوی

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ممبئی حملے کے پانچ ملزمان کو سنیچر کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا لیکن سرکاری وکیل کے اس بیان پر کہ اب تک ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے سماعت انتیس اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سنیچر کو عدالت کے سامنے پانچوں ملزمان کو پیش کیا گیا جہاں کچھ ملزمان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
سرکاری وکیل ملک رب نواز نے عدالت کو بتایا ہے کہ اب تک ملزمان کے خلاف باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے جس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت انتیس اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے لیے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو عدالت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔گرفتار ملزمان ذکی الرحمن لکھوی، حماد امین ساجد، مظہر اقبال عرف ابوالقامہ، عبدالواحد عرف زرار شاہ اور شاہد جمیل ریاض کی جانب سے ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ انہیں الزامات سے متعلق دستاویزات کی نقول فراہم کی جائیں جبکہ ملزمان سے تفتیش کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے اپنی درخواست میں مقدمے کا ان کیمرہ ٹرائل اور میڈیا کو کارروائی کی تفصیلات روکنے کی استدعا کی ہے ۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نےگزشتہ دنوں ایک اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے حوالے سے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر یہاں عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ انہوں نے بھارت سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تھا۔


















